بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورت فاتحہ نہیں پڑھی


سوال

سورت فاتحہ نہیں پڑھی اور کوئی سورت پڑھ لی رکوع اور سجدہ کر لیا  تو کیا  کرے ؟

جواب

فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب، سنت اور نفل  نماز کی تمام رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے؛ لہٰذا اگر کوئی شخص فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ کسی بھی نماز کی کسی بھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا بھول جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا، نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرلینے سے نماز درست ہوجائے گی، نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

البتہ اگر کوئی شخص فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ کسی بھی نماز کی کسی رکعت میں جان بوجھ کر سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو سجدۂ سہو سے ازالہ نہیں ہوگا، نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔ اسی طرح اگر بھولے سے فاتحہ چھوڑے دے اور آخر میں سجدہ سہو نہ کرے تو اس نماز کے وقت کے اندر اندر ایسی نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔

اور اگر فرض نماز کی تیسری یا چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو نماز درست ہوجاتی ہے، سجدہ سہو کرنے یا نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔

الفتاوى الهنديةمیں ہے:

"(ثم واجبات الصلاة أنواع) (منها) قراءة الفاتحة و السورة إذا ترك الفاتحة في الأوليين أو إحداهما يلزمه السهو و إن قرأ أكثر الفاتحة و نسي الباقي لا سهو عليه و إن بقي الأكثر كان عليه السهو إماما كان أو منفردا، كذا في فتاوى قاضي خان. و إن تركها في الأخريين لا يجب إن كان في الفرض و إن كان في النفل أو الوتر وجب عليه، كذا في البحر الرائق، و لو كررها في الأوليين يجب عليه سجود السهو بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين، كذا في التبيين."

 (کتاب الصلاۃ،ج:1، ص:126، ط: دار الفكر)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144506100923

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں