بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن معمول کی تلاوت میں سورہ کہف آجائے تو کیا یہ تلاوت کافی ہے؟


سوال

میری روزانہ کی تلاوت کے دوران سورہ کہف آگئی اور جمعہ بھی تو سوال یہ ہے کہ روزانہ کی تلاوت میں سورہ کہف کی تلاوت کرلینے سے جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے کی فضیلت حاصل ہوجائے گی یا پھر سے تلاوت کرنی ہوگی؟

جواب

احادیثِ مبارکہ میں رسول کریم ﷺ سے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت منقول ہے، نیز ان روایات میں مستقلاً تلاوت کی کوئی قید نہیں، بلکہ مطلقاً جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی ترغیب ہے؛ لہذا اگر کوئی شخص معمول کی تلاوت میں سورۂ کہف پڑھے یا علیحدہ طور پر جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کا اہتمام کرے دونوں صورتوں میں اس بارے میں منقول فضیلت اسے حاصل ہوجائے گی۔

’’سنن دارمی‘‘   کی روایت میں ہے:

"عن أبي سعيد الخدري قال: من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أضاء له من النور فيما بينه وبين البيت العتيق".

ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جس شخص نے سورہٴ کہف جمعہ کی رات میں پڑھی اس کے لیے اس کی جگہ سے مکہ تک ایک نور روشن ہوگا۔ (2/546دارالکتاب العربی)

فيض القدير (6/ 198):

"مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ فِي يَوْمِ الجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الجُمُعَتَيْنِ". (ك هق) عن أبي سعيد".

(من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة أضاء له من النور ما بين الجمعتين) فيندب قراءتها يوم الجمعة وكذا ليلتها كما نص عليه الشافعي رضي الله عنه، قال الطيبي: وقوله: "أضاء له"، يجوز كونه لازمًا، وقوله: "ما بين الجمعتين" ظرف؛ فيكون إشراق ضوء النهار فيما بين الجمعتين بمنزلة إشراق النور نفسه مبالغةً، ويجوز كونه متعديًا، والظرف مفعول به، وعليهما فسر: {فلما أضاءت ما حوله} ... (ك) في التفسير من حديث نعيم بن هشام عن هشيم عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن قيس بن عبادة عن أبي سعيد (هق عن أبي سعيد) الخدري قال الحاكم: صحيح، فردّه الذهبي، فقال: قلت: نعيم ذو مناكير، وقال ابن حجر في تخريج الأذكار: حديث حسن، قال: وهو أقوى ما ورد في سورة الكهف".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں