بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سورہ فاتحہ کے بعد سورت کی جگہ سورۃ فاتحہ پڑھنا


سوال

 کیا نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد بطورِ سورت دوبارہ سورہ فاتحہ پڑھی جا سکتی ہے {فاقرؤا ماتیسّر من القرآن}  کے عموم کے تحت یا نہیں؟ مدلل جواب مطلوب ہے!

جواب

واضح رہے کہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اور اس کے علاوہ ہر نماز کی ہر رکعت میں نفسِ قراءت فرض ہے اور سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ سورت کا ملانا واجب ہے، لہذا اگر کسی شخص نے نماز میں کہیں سے بھی قرآن پڑھ لیا (خواہ سورہ فاتحہ یا اس کے علاوہ کوئی اور سورت ) تو {فاقرؤا ما تیسر من القراٰن} کے عموم کے تحت اس کا نفسِ قراءت کا فرض ادا ہوجائے گا، لیکن سورۂ فاتحہ یا اس کے علاوہ دوسری سورت کے ترک سے سجدہ سہو لازم ہوگا، اسی طرح اگر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد  دوبارہ سورہ فاتحہ پڑھے گا تو تکرارِ واجب کی وجہ سے سجدۂ سہو لازم ہوگا، {فاقرؤا ماتیسر من القراٰن} کے عموم سے یہ سمجھنا کہ سورت ملانے کے بجائے فاتحہ کو مکر ر پڑھ لینا جائز ہے، درست نہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق یہ آیت نفسِ قراءت کی فرضیت اور نماز کے نفسِ جواز کے لیے کفایت کرنے والی قراءت کی مقدار بیان کرنے کے لیے ہے۔

اصول السرخسی میں ہے:

"وأبو حنيفة رحمه الله قال: الواجب بالنص قراءة ما تيسر من القرآن وبالآية القصيرة يحصل ذلك، فيتأدى فرض القراءة وإن كان يكره الاكتفاء بذلك".

(280/1ط:بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"لو كررها في الأوليين يجب عليه سجود السهو بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين، كذا في التبيين." (126/1ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144202201198

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں