بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سورہ توبہ کی آخری دو آیات کن صحابی کے پاس سے ملی تھیں؟


سوال

سورہ توبہ کی آخری دو آیات کس صحابی  کے پاس سے ملی تھیں؟

جواب

بخاری شریف میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  حضرت ابو  بکر رضی اللہ عنہ نے  میری طرف کہلاوا بھیجا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی لکھا کرتے تھے، لہذا قرآنی آیات تلاش کرو، سو میں نے تلاش شروع کی تو مجھے ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سورہ توبہ کی آخری دو آیات جا ملیں، ( یعنی تحریری طور پر) جو ان کے علاوہ کسی اور کے پاس (تحریری طور پر ) نہیں ملی تھیں۔  

جب کہ تفسیر مظہری میں یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کو یک جا کرنے کا ارادہ کیا اور لوگوں سے فرمایا:  جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کا کوئی حصہ سیکھا ہو وہ ہمارے پاس لے کر آجائے۔

لوگوں نے قرآن مجید کی آیات کاغذوں پر،  تختیوں پر اور درختوں کے پوست پر لکھ رکھی تھیں۔ حسب الحکم لوگ لانے لگے، لیکن آپ کسی کی لائی ہوئی کوئی آیت قبول نہیں کرتے تھے جب تک دو شاہد شہادت نہیں دیتے تھے (کہ یہ قرآن کی آیات ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تعلیم دی تھی)، آپ جمع ہی کر رہے تھے کہ آپ کو شہید کردیا گیا۔

اس کے بعد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ خلیفہ مقرر ہوگئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کے پاس قرآن کا کوئی حصہ ہو وہ میرے پاس لے آئے۔ آپ بھی کوئی آیت بغیر دو شاہدوں کے شہادت دیے قبول نہیں کرتے تھے۔

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ لوگوں نے دو آیتیں نہیں لکھیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کون سی ہیں؟

حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو آیتیں سیکھی تھیں: {لَقَدْ جَآءَ كُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ} آخر تک۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ دونوں آیات اللہ کی طرف سے آئی ہیں۔

اب بتائیے آپ کی رائے میں ان کو کہاں رکھنا چاہیے؟ حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: قرآن کا جو حصہ آخر میں نازل ہوا تھا، اس کے خاتمہ پر ان کو رکھیے۔ چناچہ سورة برأت کے خاتمہ پر ان آیات کو لکھ دیا گیا۔

مذکورہ بالا دونوں روایات میں سے بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابی  ابو خزیمہ انصاری  رضی اللہ عنہ تھے،  جوکہ بدری صحابی ہیں، اپنی کنیت کے ساتھ ہی معروف ہیں، ان کے نام کی صراحت نہیں ملتی، جیساکہ الاستیعاب فی معرفة  الاصحاب و تفسیر قرطبی  میں ہے۔

جب کہ تفسیر مظہری و تفسیر قرطبی میں سورة التوبة  کی مذکورہ دونوں آیات کی تفسیر کے ذیل میں  ذکر کردہ روایت کے مطابق مذکورہ صحابی کا نام خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ تھا، جیساکہ اسد الغابة  فی معرفة الصحابہ میں ہے۔

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے بخاری شریف کی شرح  فتح الباری میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے،  جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سورة التوبة کی آخری دو آیات ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس  سے ملی تھیں، جب کہ سورة الاحزاب کی آیت: { مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوْا اللّه عَلَيْه... الاية} خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے ملی تھی۔

صحیح البخاری میں ہے:

4989 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ ابْنَ السَّبَّاقِ، قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ،  قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكَ كُنْتَ تَكْتُبُ الوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبِعِ القُرْآنَ، " فَتَتَبَّعْتُ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ،  {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ} [التوبة: 128] إِلَى آخِرِهِ.

( كِتَابُ فَضَائِلِ القُرْآنِ، بَابُ كَاتِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، 6 / 184، ط: دار طوق النجاة)

تفسیر قرطبی میں ہے:

فَصْلٌ [في طعن الرافضة في القرآن]

وَقَدْ طَعَنَ الرَّافِضَةُ قَبَّحَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْقُرْآنِ، وَقَالُوا: إِنَ الْوَاحِدَ يَكْفِي فِي نَقْلِ الْآيَةِ وَالْحَرْفِ كَمَا فَعَلْتُمْ فَإِنَّكُمْ أَثْبَتُّمْ بِقَوْلِ رَجُلٍ وَاحِدٍ وَهُوَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ وَحْدَهُ آخِرَ سُورَةِ "بَرَاءَةٌ" وَقَوْلُهُ:{مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجالٌ}. فالجواب ان خزيمة رضى الله عنه لم جَاءَ بِهِمَا تَذَكَّرَهُمَا كَثِيرٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَقَدْ كَانَ زَيْدٌ يَعْرِفُهُمَا، وَلِذَلِكَ قَالَ: فَقَدْتُ آيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ" التَّوْبَةِ". وَلَوْ لَمْ يُعْرِفْهُمَا لم يدر هل فقد شيئا أولا، فَالْآيَةُ إِنَّمَا ثَبَتَتْ بِالْإِجْمَاعِ لَا بِخُزَيْمَةَ وَحْدَهُ. جَوَابٌ ثَانٍ إِنَّمَا ثَبَتَتْ بِشَهَادَةِ خُزَيْمَةَ وَحْدَهُ لقيام الدليل على صحتها في النبي صلى الله عليه وآله وَسَلَّمَ، فَهِيَ قَرِينَةٌ تُغْنِي عَنْ طَلَبِ شَاهِدٍ آخَرَ بِخِلَافِ آيَةِ" الْأَحْزَابِ" فَإِنَّ تِلْكَ ثَبَتَتْ بِشَهَادَةِ زَيْدٍ وَأَبِي خُزَيْمَةَ لِسَمَاعِهِمَا إِيَّاهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ مَعْنَاهُ الْمُهَلَّبُ، وَذَكَرَ أَنَّ خُزَيْمَةَ غَيْرُ أَبِي خُزَيْمَةَ، وَأَنَّ أَبَا خُزَيْمَةَ الَّذِي وُجِدَتْ مَعَهُ آيَةُ التَّوْبَةِ مَعْرُوفٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَقَدْ عَرَفَهُ أَنَسٌ وَقَالَ: نَحْنُ وَرِثْنَاهُ، وَالَّتِي فِي الْأَحْزَابِ وُجِدَتْ مع خزيمة بن ثابت فلا تعارض، والقضية غير القضية لَا إِشْكَالَ فِيهَا وَلَا الْتِبَاسَ. وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ" أَبُو خُزَيْمَةَ لَا يُوقَفُ عَلَى صِحَّةِ اسْمِهِ وَهُوَ مَشْهُورٌ بِكُنْيَتِهِ، وَهُوَ أَبُو خُزَيْمَةَ بْنُ أَوْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، شَهِدَ بَدْرًا وَمَا بَعْدَهَا مِنَ الْمَشَاهِدِ، وَتُوُفِّيَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَهُوَ أَخُو مَسْعُودِ بْنِ أَوْسٍ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: وَجَدْتُ آخِرَ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ هَذَا، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَارِثِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَبِي خُزَيْمَةَ نَسَبٌ إِلَّا اجْتِمَاعِهِمَا فِي الْأَنْصَارِ، أَحَدُهُمَا أَوْسِيٌ وَالْآخَرُ خَزْرَجَيٌّ.

(باب ذكر جمع القرآن، وسبب كتب عثمان المصاحف وإحراقه ما سواها، وذكر من حفظ القرآن من الصحابة رضي الله عنهم في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فصل في طعن الرافضة في القرآن، 1 / 56، ط: دار الكتب المصرية - القاهرة)

تفسیر قرطبی میں ہے:

وَقَالَ يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يُثْبِتُ آيَةً فِي الْمُصْحَفِ حَتَّى يَشْهَدَ عَلَيْهَا رَجُلَانِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ بَرَاءَةٌ" لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ" فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُكَ عَلَيْهِمَا بَيِّنَةً كَذَلِكَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْبَتَهُمَا.  قَالَ عُلَمَاؤُنَا: الرَّجُلُ هُوَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ وَإِنَّمَا أَثْبَتَهُمَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِشَهَادَتِهِ وَحْدَهُ لِقِيَامِ الدَّلِيلِ عَلَى صِحَّتِهَا فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ قَرِينَةٌ تُغْنِي عَنْ طَلَبِ شَاهِدٍ آخَرَ بِخِلَافِ آيَةِ الْأَحْزَابِ: {رِجالٌ صَدَقُوا مَا عاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ} [الْأَحْزَابِ: 23] فَإِنَّ تِلْكَ ثَبَتَتْ بِشَهَادَةِ زَيْدٍ وَخُزَيْمَةَ لِسَمَاعِهِمَا إِيَّاهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْمَعْنَى فِي مُقَدِّمَةِ الْكِتَابِ. والحمد لله.

( التوبة، رقم الآية:128 - 129، 8 / 303، ط: دار الكتب المصرية - القاهرة)

تفسیر مظہری میں ہے:

عن يحيى بن عبد الرحمان بن حاطب انه قال أراد عمر بن الخطاب ان يجمع القران فقام فى الناس فقال من كان تلقى فى زمن رسول الله صلّى الله عليه وسلم شيئا من القرآن فلياتنا به وكانوا كتبوا ذلك فى الصحف والألواح والعسب وكان لا يقبل من أحد شيئا حتى يشهد به شاهدان فقتل وهو يجمع ذلك اليه فقام عثمان بن عفان فقال من كان عنده شىء من كتاب الله فلياتنا به وكان لا يقبل من ذلك حتى يشهد به شاهدان فجاء خزيمة بن ثابت فقال انى رايتكم تركتم به ايتين لم تكتبوهما فقال اما هما قال تلقيت من رسول الله صلّى الله عليه وسلم لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم الآيتين فقال عثمان وانا اشهد انهما من الله فاين نرى ان تجعلهما قال اختم بهما آخر ما نزل من القرآن فتحتمت بها براة الحمد لله رب العلمين صلى الله على رسوله روف الرحيم.

( التوبة، آية: 129، 4 / 328، ط: رشيدية)

الاستيعاب في معرفة الأصحاب میں ہے:

(2930) أَبُو خزيمة بْن أوس بْن زيد بْن أصرم بْن ثعلبة بْن غنم بْن مالك ابن النجار

شهد بدرًا وما بعدها من المشاهد. وتوفي فِي خلافة عُثْمَان بْن عفان، وَهُوَ أخو مَسْعُود بْن أوس بْن أبي مُحَمَّد. وقال ابن شهاب، عن عبيد ابن السباق، عَنْ زيد بْن ثابت: وجدت آخر التوبة مَعَ أبي خزيمة الأَنْصَارِيّ.

وَهُوَ هَذَا، ليس بينه وبين الحارث بْن خزيمة أبي خزيمة إلا اجتماعهما فِي الأنصار:

أحدهما أوسي، والآخر خزرجيّ.

( كتاب الكني، باب الخاء، أَبُو خزيمة بْن أوس بْن زيد بْن أصرم بْن ثعلبة بْن غنم بْن مالك ابن النجار، 4 / 1640، دار الجيل، بيروت)

أسد الغابة في معرفة الصحابة میں ہے:

[875-الحارث بن خزيمة]

ب: الحارث بْن خزيمة، أَبُو خزيمة الأنصاري قال ابن شهاب، عن عبيد بْن السباق، عن زيد، قال: وجدت آخر التوبة، مع أَبِي خزيمة الأنصاري، وهذا لا يوقف له عَلَى اسم، وقدتقدم أنها وجدت مع خزيمة بْن ثابت، وهو الصحيح. أخرجه أَبُو عمر.

(باب الحاء و الالف، الحارث بن خزيمة، 1 / 604، ط: دار الكتب العلمية)

فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن حجر العسقلاني میں ہے:

بَابُ قَوْلِهِ: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنفسكُم عَزِيز عَلَيْهِ مَا عنتم الْآيَةَ} كَذَا لِأَبِي ذَرٍّ وَسَاقَ غَيْرُهُ إِلَى رَءُوفٌ رَحِيمٌ قَوْلُهُ مِنَ الرَّأْفَةِ ثَبَتَ هَذَا لغير أبي ذَر وَهُوَ كَلَامِ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ان الله بِالنَّاسِ لرءوف رَحِيم، هُوَ فَعُولٌ مِنَ الرَّأْفَةِ وَهِيَ أَشَدُّ الرَّحْمَةِ [4679]،  قَوْله: أَخْبرنِي بن السَّبَّاقِ بِمُهْمَلَةِ وَتَشْدِيدِ الْمُوَحَّدَةِ اسْمُهُ عُبَيْدٌ وَسَيَأْتِي شَرْحُ الْحَدِيثِ مُسْتَوْفًى فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَقَدَّمَ فِي أَوَائِل الْجِهَاد التَّنْبِيه علىاختلاف عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ وَخَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ فِي تَعْيِينِ الْآيَةِ قَوْلُهُ تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَاللَّيْث بن سعد عَن يُونُس عَن بن شِهَابٍ أَمَّا مُتَابَعَةُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ فَوَصَلَهَا أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ فِي مُسْنَدَيْهِمَا عَنْهُ وَأَمَّا مُتَابَعَةُ اللَّيْثِ عَنْ يُونُسَ فَوَصَلَهَا الْمُؤَلِّفُ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَفِي التَّوْحِيدِ قَوْلُهُ وَقَالُ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ بن شِهَابٍ وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ يُرِيدُ أَنَّ لليث فِيهِ شَيخا آخر عَن بن شِهَابٍ وَأَنَّهُ رَوَاهُ عَنْهُ بِإِسْنَادِهِ الْمَذْكُورِ لَكِنْ خَالَفَ فِي قَوْلِهِ مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ وَرِوَايَةُ اللَّيْثِ هَذِهِ وَصَلَهَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ فِي مُعْجَمِ الصَّحَابَةِ مِنْ طَرِيقِ أَبِي صَالِحٍ كَاتِبِ اللَّيْثِ عَنْهُ بِهِ قَوْله وَقَالَ مُوسَى عَن إِبْرَاهِيم حَدثنَا بن شِهَابٍ وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ وَتَابَعَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ أَمَّا مُوسَى فَهُوَ بن إِسْمَاعِيل وَأما إِبْرَاهِيم فَهُوَ بن سَعْدٍ وَيَعْقُوبُ هُوَ وَلَدُهُ وَمُتَابَعَةُ مُوسَى وَصَلَهَا الْمُؤَلِّفُ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَقَالَ فِي آيَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ وَفِي آيَةِ الْأَحْزَابِ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ وَمِمَّا نُنَبِّهُ عَلَيْهِ أَنَّ آيَةَ التَّوْبَةِ وَجَدَهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَمَّا جَمَعَ الْقُرْآنَ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَآيَةُ الْأَحْزَابِ وَجَدَهَا لَمَّا نَسَخَ الْمَصَاحِفَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ وَسَيَأْتِي بَيَانُ ذَلِكَ وَاضِحًا فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَأَمَّا رِوَايَةُ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فَوَصَلَهَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ فِي كِتَابِ الْمَصَاحِفِ مِنْ طَرِيقِهِ وَكَذَا أَخْرَجَهَا أَبُو يَعْلَى مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَكِنْ بِاخْتِصَارٍ وَرَوَاهَا الذُّهْلِيُّ فِي الزُّهْرِيَّاتِ عَنْهُ لَكِنْ قَالَ مَعَ خُزَيْمَةَ وَكَذَا أَخْرَجَهُ الْجَوْزَقِيُّ مِنْ طَرِيقِهِ قَوْلُهُ وَقَالَ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَقَالَ مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَمَّا أَبُو ثَابِتٍ فَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ وَأما إِبْرَاهِيم فَهُوَ بن سَعْدٍ وَمُرَادُهُ أَنَّ أَصْحَابَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ اخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَ خُزَيْمَةَ وَشَكَّ بَعْضُهُمْ وَالتَّحْقِيقُ مَا قَدَّمْنَاهُ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَنَّ آيَةَ التَّوْبَة مَعَ أبي خُزَيْمَة وَآيَة الْأَحْزَابِ مَعَ خُزَيْمَةَ وَسَتَكُونُ لَنَا عَوْدَةٌ إِلَى تَحْقِيقِ هَذَا فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ الْأَحْزَابِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى وَرِوَايَةُ أَبِي ثَابِتٍ الْمَذْكُورَةُ وَصَلَهَا الْمُؤَلِّفُ فِي الْأَحْكَامِ بِالشَّكِّ كَمَا قَالَ.

( بَابُ قَوْلِهِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنفسكُم عَزِيز عَلَيْهِ مَا عنتم الْآيَةَ،8 / 344 - 345، ط: دار المعرفة - بيروت)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200728

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں