بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سورۂ نساءمیں صدیقین شہداء اور صالحین سےکون لوگ مراد ہیں ؟


سوال

انبیاء صدیقین شہداء اور صالحین جن پر اللہ پاک نے اپنا انعام فرمایا ہے جیسا قرآن میں ہے، ان میں صدیقین اور صالحین کون ہیں؟ اور شہداء سے مراد  کیا مراد ہے ؟

کیاصرف وہ جو فی سبیل اللہ شہید ہوئے ہوں وہ مراد ہیں  یا حکماً جو شہید ہوں جیسے ڈوب کر انتقال ہو گیا یا پیٹ میں درد سے مر گیا وغیرہ وہ بھی شامل ہیں؟

جواب

اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:

"ومَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًا۔"(سورة النساء:69)

ترجمه:"اور جو کوئی حکم مانے اللہ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سو وہ ان کے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا کہ وہ نبی اور صدیق اور شہید اور نیک بخت ہیں اور اچھی ہے ان کی رفاقت۔"(بيان القرن)

 اللہ تعالی نےان آیاتِ مبارکہ  میں چار ایسی جماعتوں کا ذکرکیا ہے ،جن پر اللہ تعالیٰ نے  خصوصی انعام و اکرام فرمایا اور ان چاروں جماعتوں کو ساری کائنات کے لیے قدوہ ورہنما بنایا ہے مفسرین  کرام نے ان میں سے سوال میں مذکور تینوں صفات   کے حاملین کی درجِ ذیل الفاظ و تعبیرات کے ساتھ  تعریف وتشریح کی ہے:

صدیقین سے کون سے لوگ مراد ہیں ؟

پہلی تفسیر :

علامہ فخر الرازیؒ نے مفاتیح الغیب میں یہ فرمائی کہ" صدیق  اسے کہتے ہیں ،جو پورے کے پورے دین کی من وعن بغیر کسی  شک و شبہ اور قلبی خلجان کے  تصدیق کرے ،اور اسے مان لے" ۔

دوسری تفسیر :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اجلہ صحابہ کرام جنہوں نے سب سے پہلے حضور ﷺ  کی تصدیق کی، آپ پر ایمان لائے  اور اسلام قبول کیا ۔

تیسری تفسیر :

پھر ان میں سے بھی لقبِ صدیق سب سے زیادہ  جس پر  صادق آتاہے،وہ  ایسا شخص ہے جو  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں  بھی  سب سے پہلے ایمان لایا ،اور وہ حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ،۔

معارف القرآن میں صدیق کی تعریف یہ کی ہے:

دوسرا درجہ صدیقین کا ہے اور وہ لوگ ہیں جو معرفت میں انبیاء علیہم السلام کے قریب ہیں۔

صالحین سے مراد :

علامہ رازی ؒنے تفسیرِ کبیر میں صالح کی تعریف یہ کی ہے کہ وہ شخص جو اپنے عقائد واعمال کے لحاظ سے در ستگی  پر(یعنی  اس کا عقیدہ اور عمل ٹھیک ) ہو۔

 تفسیرِ عثمانی میں اس کی تشریح یوں کی ہے کہ  صالح اور نیک بخت وہ کہ جن کی طبعیت نیکی ہی پر پیدا ہوئی ہے، اور بری باتوں سے اپنے نفس اور بدن کی اصلاح اور صفائی کرچکے ہیں۔

شہداء سے کیا مراد ہے؟

1۔شہید اسے کہتے ہیں جو اپنی جان کو اللہ کے دین کے لیے قربان کرنے والے ہیں ،۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہے ،جو اللہ تعالیٰ کے دین کے برحق ہونے کی گواہی کبھی تو زبان  کے ذریعے دلیل و برہان سے دے ،اور کبھی (حسبِ موقع )تیر وتلوار کے ذریعے میدانِ جنگ میں اپنی بہادر کے جوہر دکھا کر دے رہا ہو،مفسرین کی تصریح کے مطابق  اس  آیت میں"الشھداء"سے مراد دونوں قسم کے لوگ مراد ہیں ،چاہے وہ"فی سبیل اللہ "شہید ہوئے ہوں یا احادیث کی روشنی میں جن کو اُخروی احکامات کے اعتبار سے شہید کہا گیا ہو ،جس میں ڈوب کر انتقال کرنے والا، پیٹ کی بیماری میں مر جانے والا وغیرہ و غیرہ سب شامل ہیں ،جیسا کہ علامہ رازیؒ  نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے تحفظ، دفاع اور نصرت کے لیے جو شخص اپنے جان و مال کی قربانی دیتے ہوئے میدانِ جہاد میں شہید ہو اس کی فضیلت زیادہ بلندہوگی، اس کے مقابلے میں جو طاعون یا  پیٹ کے درد وغیرہ میں یا چھت سے گر کر مرجائے لیکن ہر ہر شہید کو ہر فضیلت حاصل ہو، یہ ضروری بھی نہیں ہے، اور اس کا دعویٰ بھی نہیں کیا جاسکتا، آخرت کے اَحکام اور اجر و ثواب کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہیے۔

ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ”صدیقین“ سے مراد اجلہ صحابہ اور”شہداء“ سے شہداءِ احد اور ”صالحین“ سے عام نیک مسلمان مراد ہیں ۔(کماذکرہ المفتی محمد شفیع فی المعارف)

تفسیرِ عثمانی میں ہے:

"نبی وہ ہیں جن پر اللہ کی طرف سے وحی آئے یعنی فرشتہ ظاہر میں آکر پیغام کہہ جائے اور صدیق وہ کہ جو پیغام اور احکام خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو آئے ان کا جی آپ ہی اس پر گواہی دے اور بلا دلیل اس کی تصدیق کرے اور شہید وہ کہ پیغمبروں کے حکم پر جان دینے کو حاضر ہیں اور صالح اور نیک بخت وہ کہ جن کی طبیعت نیکی ہی پر پیدا ہوئی ہے۔ اور بری باتوں سے اپنے نفس اور بدن کی اصلاح اور صفائی کرچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چار قسمیں مذکورہ جو امت کے باقی افراد سے افضل ہیں ان کے ما سوا جو مسلمان ہیں اور درجہ میں ان کے برابر نہیں لیکن اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری میں مشغول ہیں وہ لوگ بھی انہیں کی شمار اور ذیل میں لئے جائیں گے اور ان حضرات کی رفاقت بہت ہی خوبی اور فضیلت کی بات ہے۔ اس کو کوئی حقیر نہ سمجھے۔"

(تفسری سورۂ نساء:69 ،ج:1،ص:419 ،ط:دارالاشاعت)

مفردات القرآن للراغب اصفہانیؒ میں ہے:

"فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء

[النساء/ 69] ، فالصديقون هم قوم دوين الأنبياء في الفضيلة."

(صدق،ص:479 ،ط:دارالقلم)

تفسیر رازی میں ہے:

"إذا عرفت هذا فنقول: للمفسرين في الصديق وجوه: الأول: أن كل من صدق بكل الدين لا يتخالجه فيه شك فهو صديق، والدليل عليه قوله تعالى: والذين آمنوا بالله ورسله أولئك هم الصديقون ۔۔"

الثاني: قال قوم: الصديقون أفاضل أصحاب النبي عليه الصلاة والسلام۔۔۔"

الثالث: أن الصديق اسم لمن سبق إلى تصديق الرسول عليه الصلاة والسلام فصار في ذلك قدوة لسائر الناس، وإذا كان الأمر كذلك كان أبو بكر الصديق رضي الله تعالى عنه أولى الخلق بهذا الوصف أما بيان أنه سبق إلى تصديق الرسول عليه الصلاة والسلام فلأنه قد اشتهرت الرواية عن الرسول عليه الصلاة والسلام أنه قال: «ما عرضت الإسلام على أحد إلا وله كبوة غير أبي بكر فإنه لم يتلعثم»

وذلك لأنهم اتفقوا على أنه رضي الله تعالى عنه لما آمن جاء بعد ذلك بمدة قليلة بعثمان بن عفان رضي الله عنه، وطلحة والزبير وسعد بن أبي وقاص وعثمان بن مظعون رضي الله تعالى عنهم أجمعين حتى أسلموا، فكان إسلامه/ سببا لاقتداء هؤلاء الأكابر به، فثبت بمجموع ما ذكرنا أنه رضوان الله عليه كان أسبق الناس إسلاما، وثبت أن إسلامه صار سببا لاقتداء أفاضل الصحابة في ذلك الإسلام، فثبت أن أحق الأمة بهذه الصفة أبو بكر رضي الله عنه. إذا عرفت هذا فنقول: هذا الذي ذكرناه يقتضي أنه كان أفضل الخلق بعد الرسول صلى الله عليه وسلم، وبيانه من وجهين: الأول: أن إسلامه لما كان أسبق من غيره وجب أن يكون ثوابه أكثر،

لقوله عليه الصلاة والسلام: «من سن سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها إلى يوم القيامة»

الثاني: أنه بعد أن أسلم جاهد في الله وصار جهاده مفضيا إلى حصول الإسلام لأكابر الصحابة مثل عثمان وطلحة والزبير وسعد بن أبي وقاص وعثمان بن مظعون وعلي رضي الله تعالى عنهم، وجاهد علي يوم أحد ويوم الأحزاب في قتل الكفار، ولكن جهاد أبي بكر رضي الله عنه أفضى إلى حصول الإسلام لمثل الذين هم أعيان الصحابة، وجهاد علي أفضى إلى قتل الكفار، ولا شك أن الأول أفضل، وأيضا فأبو بكر جاهد في أول الإسلام حين كان النبي صلى الله عليه وسلم في غاية الضعف، وعلي إنما جاهد يوم أحد ويوم الأحزاب، وكان الإسلام قويا في هذه الأيام، ومعلوم أن الجهاد وقت الضعف أفضل من الجهاد وقت القوة، ولهذا المعنى قال تعالى: لا يستوي منكم من أنفق من قبل الفتح وقاتل أولئك أعظم درجة من الذين أنفقوا من بعد وقاتلوافبين أن نصرة الإسلام وقت ما كان ضعيفا أعظم ثوابا من نصرته وقت ما كان قويا، فثبت من مجموع ما ذكرناه أن أولى الناس بهذا الوصف هو الصديق، فلهذا أجمع المسلمون على تسليم هذا اللقب له إلا من لا يلتفت إليه فإنه ينكره، ودل تفسير الصديق بما ذكرناه على أنه لا مرتبة بعد النبوة في الفضل والعلم إلا هذا الوصف وهو كون الإنسان صديقا، وكما دل الدليل عليه فقد دل لفظ القرآن عليه، فإنه أينما ذكر الصديق والنبي لم يجعل بينهما واسطة۔۔."

وفیه ايضا:

"الصفة الثانية: الشهادة"

والكلام في الشهداء قد مر في مواضع من هذا الكتاب، ولا بأس بأن نعيد البعض فنقول: لا يجوز أن تكون الشهادة مفسرة بكون الإنسان مقتول الكافر، والذي يدل عليه وجوه: الأول:

أن هذه الآية دالة على أن مرتبة الشهادة مرتبة عظيمة في الدين، وكون الإنسان مقتول الكافر ليس فيه زيارة شرف، لأن هذا القتل قد يحصل في الفساق ومن لا منزلة له عند الله. الثاني: أن المؤمنين قد يقولون: اللهم ارزقنا الشهادة، فلو كانت الشهادة عبارة عن قتل الكافر إياه لكانوا قد طلبوا من الله ذلك القتل وإنه غير جائز، لأن طلب صدور ذلك القتل من الكافر كفر، فكيف يجوز أن يطلب من الله ما هو كفر، الثالث:

روي أنه صلى الله عليه وسلم قال: المبطون شهيد والغريق شهيد،

فعلمنا أن الشهادة ليست عبارة عن القتل، بل نقول: الشهيد فعيل بمعنى الفاعل، وهو الذي يشهد بصحة دين الله تعالى تارة بالحجة والبيان، وأخرى بالسيف والسنان، فالشهداء هم القائمون بالقسط، وهم الذين ذكرهم الله في قوله: شهد الله أنه لا إله إلا هو والملائكة وأولوا العلم قائما بالقسط [آل عمران: 18] ويقال للمقتول في سبيل الله شهيد من حيث إنه بذل نفسه في نصرة دين الله، وشهادته له بأنه هو الحق وما سواه هو الباطل، وإذا كان من شهداء الله بهذا المعنى كان من شهداء الله في نصرة دين الله، الآخرة، كما قال: وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس [البقرة: 143].

وفيه ايضا:

"الصفة الثالثة: الصالحون:

والصالح هو الذي يكون صالحا في اعتقاده وفي عمله، فإن الجهل فساد في الاعتقاد، والمعصية فساد في العمل، وإذا عرفت تفسير الصديق والشهيد والصالح ظهر لك ما بين هذه الصفات من التفاوت، وذلك لأن كل من كان اعتقاده صوابا وكان عمله طاعة وغير معصية فهو صالح، ثم إن الصالح قد يكون بحيث يشهد لدين الله بأنه هو الحق وأن ما سواه هو الباطل، وهذه الشهادة تارة تكون بالحجة والدليل وأخرى بالسيف، وقد لا يكون الصالح موصوفا بكونه قائما بهذه الشهادة، فثبت أن كل من كان شهيدا كان صالحا، وليس كل من كان صالحا شهيدا، فالشهيد أشرف أنواع الصالح، ثم إن الشهيد قد يكون صديقا وقد لا يكون: ومعنى الصديق الذي كان أسبق إيمانا من غيره، وكان إيمانه وقدوة لغيره، فثبت أن كل من كان صديقا كان شهيدا، وليس كل من كان شهيدا كان صديقا، فثبت أن أفضل الخلق هم الأنبياء عليهم السلام، وبعدهم الصديقون، وبعدهم من ليس له درجة إلا محض درجة الشهادة، وبعدهم من ليس له إلا محض درجة الصلاح۔۔۔۔۔

الحاصل :

"فالحاصل أن أكابر الملائكة يأخذون الدين الحق عن الله، والأنبياء يأخذون عن الملائكة، كما قال: ينزل الملائكة بالروح من أمره على من يشاء من عباده [النحل: 2] والصديقون يأخذونه عن الأنبياء. والشهداء يأخذونه عن الصديقين، لأنا بينا أن الصديق هو الذي يأخذ في المرة الأولى عن/ الأنبياء وصار قدوة لمن بعده، والصالحون يأخذونه عن الشهداء، فهذا هو تقرير هذه المراتب وإذا عرفت هذا ظهر لك أنه لا أحد يدخل الجنة إلا وهو داخل في بعض هذه النعوت والصفات."

(تفسير سورة النساء :69 ،ج:10،ص:136 ،ط:دارإحياء التراث العربي)

تفسیرِ مظہری میں ہے:

"وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحِينَ ذكر الله سبحانه للذين أنعم الله عليهم اربعة اصناف على ترتيب منازلهم فى القرب وحثّ كافة الناس ان لا يتاخروا عنهم،۔

اوّل الأصناف الأنبياء عليهم السلام :

الذين مبادى تعيناتهم صفات الله تعالى وهم المستغرقون فى التجليات الذاتية الصرفة الدائمية بلا حجاب الصفات المعبر عنها بكمالات النبوة الفائزون الراسخون فى هذا المقام بالاصالة المبعوثون لتكميل الخلائق وجذبهم الى مراتب القرب على حسب استعداد افراد الامة وكسبهم وحسب مشية الله تعالى المبلّغون من الله تعالى أحكامه الى الناس ما يصلح دنياهم وآخرتهم۔۔

وثانيهم الصدّيقون:

وهم المبالغون فى الصدق المتصفون بكمال متابعة الأنبياء ظاهرا وباطنا المستغرقون فى كمالات النبوة والتجلّيات الذاتية الصرفة الدائمية بلا حجاب بالوراثة والتبعية۔۔

وثالثهم الشهداء:

الباذلون أنفسهم فى سبيل الله ليفاض عليهم نوعامن التجليات الذاتية بسبب بذلهم ذواتهم فى سبيل الله۔۔

ورابعهم الصالحون:

الذين أصلحوا أنفسهم بازالة الرذائل وقلوبهم بشرب بحار الحبّ ودوام الذكر المانع عن الاشتغال بغير الله سبحانه وأبدانهم عن المعاصي فصلحوا لتجلّيات الظلال والافعال بعد حصول الفناء والبقاء على الكمال وتحصلوا برخا من التجلّيات الذاتية ان شاء الله تعالى ولو من وراء حجب الصّفات وهم الذين سموا بلسان القوم بالأولياء ووعد الله سبحانه سائر المؤمنين بعد دخول الجنة معيتهم وزيارتهم على قدر ما أطاعوا الله ورسوله والمراد بالصّديقين هاهنا غير الأنبياء وكذا بالصالحين غير الأنبياء والصدّيقين."

(تفسير سورة النساء :69 ،ج:2،ص؛161 ،ط:مكتبة الرشيدية)

فقط واللہ أعلم 


فتوی نمبر : 144502102380

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں