بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سورۂ احزاب کی آیت میں لفظِ صلاۃ کی تفسیر


سوال

سورۃ  الاَحزاب آیت : 56 کا ترجمہ کچھ یوں ہے: "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو" تو اس میں اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے سے کیا مراد ہے؟ مجھ  سے ایک غیر مسلم نے سوال کیا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد اللہ پاک کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل کرنا ہے،  لیکن عربی کے الفاظ کی تو کوئی ہیر پھیر نہیں ہے،  اس آیت میں واضح لکھا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں،  اور آپ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحمت نازل کرتے ہیں،  جب کہ فرشتے درود پڑھتے ہیں،آپ لوگ   ایسا کیوں کہتے ہوں؟   جب عربی میں یصلی اور یصلون کا مطلب رحمت ہوتا ہے تو کیا فرشتے بھی رحمت بھیجتے ہیں؟ جب سے مجھ سے یہ سوال کیا گیا ہے اس وقت سے میں  اور تب سے میں بہت سے  وساوس کا شکار ہوگیا ہوں،  راہ نمائی فرمائیں کہ اس کا جواب کیا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ  مذکورہ شبہ قواعدِ عربی  سے لاعلمی  عدمِ واقفیت کی  بناء پر پیدا ہوا ہے ،اور مذکورہ شخص نے لفظِ "صلوۃ "کو فقط درود کے معنی  میں منحصر سمجھ لیا ہے ،حالاں کہ لفظ "صلوۃ "(اور اس سے بنے صیغے) جس طرح "درود "کے معنی میں استعمال  ہوتے ہیں ،اسی طرح ان کا استعمال لغتِ عرب میں دوسرے معانی کے لیے بھی شائع و ذائع ہے ،جو کسی بھی عربی گرامر کے طالب ِ علم سے مخفی نہیں ہے ،اس لیے کسی بھی لغت /زبان کو سمجھنے کے لیے اہلِ لغت و اہلِ زبان سے بیگانہ رہ کر اس زبان کے الفاظ اور رموزو اوقاف کا سمجھنا مشکل ہی نہیں  بلکہ ناممکن کہنا بے جا نہ ہو گا ،اس لیے اگر مذکورہ لفظ "صلوۃ "یا اس سے بنے صیغوں کو اگر عربی لغت  میں دیکھا جائے ،تو اہلِ لغت جس طرح  مذکورہ لفظ کو درود کے لیے استعمال کرتے ہیں ،اسی طرح دوسرے معانی میں بھی استعمال کرتے ہیں ،جیسے قرآن مجید میں بھی لفظ ِ "صلوۃ " نماز کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ،سورۃ الکوثر میں ہے"فصل لربک وانحر"یہاں  پر "لفظ "صلوۃ "نماز کے لیے استعمال ہو ا ہے ،اب کوئی عربی گرامر کا طالب ِ علم بھی یہاں"فَصَلّ"كا ترجمه درود نهيں كرے گا ،بلكه قواعدِ عربيت كے تحت اس كا ترجمه "نماز پڑھو"کرنا ہی موضع و مقام  کا تقاضا ہے ۔

اسی طر ح لفظ ِ "صلوۃ "دعا کے لیے بھی استعمال ہو ا ہے ،جیسے سورۃ التوبہ میں ہے،اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے ،کہ آپ ﷺ کا صحابہ کے لیے دعا کرنا ان کے لیے  سکون کا باعث ہے ،ارشادہے "ان صلوتك سکن لھم "اب یہاں اگر  لفظ ِ "صلوۃ " کو  درود کے معنی میں استعمال کریں گے ،تو معنی غلط ہو گا۔

بہر حال خلاصۂ کلام یہ ہے کہ  لفظِ "صلوۃ " کو فقط "درود" کے معنی میں منحصر کرنا درست نہیں ہے ،بلکہ مفسرین اور اہلِ لغت کی تصریحات کے مطابق مذکورہ آیت میں صلاۃ سے عمومِ مجاز معنی (رحمتِ خاصہ)  مراد ہے جو سب کو شامل ہو  یعنی ایسی رحمت جو ہر ایک کے شایانِ شان ہو، لہذا اللہ کے شایانِ شان رحمت وہ ہے جس سے اللہ آپ ﷺ کو نوازتا ہے، اور فرشتوں کے شایانِ شان رحمت یہ ہے کہ فرشتے آپﷺ کے لیے دعا واستغفار کرتے ہیں، اور  مؤمنین کے شایانِ شان رحمت سے مراد مدح،  ثناء اور تعظیم ہے۔

تفسیر مظہری میں ہے:

"قال البغوي الصلاة من الله رحمة ومن الملئكة استغفار وقيل الصلاة من الله على العبد اشاعة الذكر الجميل له فى العباد وقيل الثناء عليه- وفى القاموس الصلاة الدّعاء والرحمة والاستغفار وحسن الثناء من الله تعالى على رسوله وعبادة فيها ركوع وسجود- وهذه العبارة تقتضى كونها لفظا مشتركا فمن أجاز استعمال اللفظ المشترك فى الأكثر من معنى واحد أجاز ان يكون معناه ان الله يرحم عليكم وملائكته يستغفرونه لكم- واما عند الجمهور فلا يجوز عموم المشترك فيقال المراد بالصلوة هاهنا المعنى المجازى المشترك بين المعنيين الحقيقيين وهو العناية لصلاح أمركم وظهور شرفكم ويسمى عموم المجاز."

عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْْ."

(تفسير سورة الاحزاب:43 ،ج:7،ص:352،ط:رشيدية)

احکام القرآن للجصاص میں ہے :

"قوله تعالى: {إن الله وملائكته ‌يصلون ‌على ‌النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما} . الصلاة من الله هي الرحمة ومن العباد الدعاء، وقد تقدم ذكره. وروي عن أبي العالية: {إن الله وملائكته ‌يصلون ‌على ‌النبي} قال: "صلاة الله عليه عند الملائكة وصلاة الملائكة عليه بالدعاء". قال أبو بكر: يعني والله أعلم إخبار الله الملائكة برحمته لنبيه صلى الله عليه وسلم وتمام نعمه عليه، فهو معنى قوله صلاته عند الملائكة. وروي عن الحسن: هو الذي يصلي عليكم وملائكته، إن بني إسرائيل سألوا موسى عليه السلام: هل يصلي ربك؟ فكأن ذلك كبر في صدره، فأوحى الله إليه أن أخبرهم أني أصلي وأن صلاتي أن رحمتي سبقت غضبي."

(ج:3،ص:484 ،ط:  دارالكتب العلمية)

تفسیر رازی   میں ہے :

"يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما وفي الآية مسائل:

الأولى: الصلاة الدعاء يقال في اللغة صلى عليه، أي دعا له، وهذا المعنى غير معقول في حق الله تعالى فإنه لا يدعو له، لأن الدعاء للغير طلب نفعه من ثالث."

(ج:25 ،ص:181 ،ط:دارإحياء التراث العربي)

وفیہ ایضا:

"هو الذي ‌يصلي ‌عليكم وملائكته ليخرجكم من الظلمات إلى النور وكان بالمؤمنين رحيما(43)

يعني هو ‌يصلي ‌عليكم ويرحمكم وأنتم لا تذكرونه فذكر صلاته تحريضا للمؤمنين على الذكر والتسبيح ليخرجكم من الظلمات إلى النور يعني يهديكم برحمته والصلاة من الله رحمة ومن الملائكة استغفار فقيل بأن اللفظ المشترك يجوز استعماله في معنييه معا وكذلك الجمع بين الحقيقة والمجاز في لفظ جائز وينسب هذا القول إلى الشافعي رضي الله عنه وهو غير بعيد فإن أريد تقريبه بحيث يصير في غاية القرب نقول الرحمة والاستغفار يشتركان في العناية بحال المرحوم والمستغفر له والمراد هو القدر المشترك فتكون الدلالة تضمنية لكون العناية جزأ منهما وكان بالمؤمنين رحيما."

(ج:25 ،ص:172 ،ط:دارإحياء التراث العربي)

معارف القرآن میں ہے :

"ھو الذي یصلى علیکم وملئکته . وہ (خود بھی) اور اس کے فرشتے (بھی) تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔

بغوی نے لکھا ہے : اللہ کی طرف سے صلوٰۃ کا معنی ہے رحمت اور ملائکہ کی صلوٰۃ کا معنی ہے دعاء مغفرت ، بعض کے نزدیک اللہ کی بندہ پر صلوٰۃ کا معنی ہے بندہ کے ذکر خیر کو لوگوں میں پھیلانا۔ بعض نے کہا : اللہ کی طرف سے بندہ کی ثناہ ہونا صلوٰۃ اللہ ہے۔
قاموس میں ہے : صلوٰۃ (کا معنی ہے) دعائے رحمت ‘ استغفار ‘ اللہ کی طرف سے رسول کی اچھی تعریف۔ وہ عبادت جس میں رکوع اور سجود بھی ہوتا ہے ‘ صاحب قاموس نے اس عبارت کا تقاضا کیا ہے کہ لفظ صلوٰۃ چند معانی میں مشترک ہے ‘ پس جو اہل ادب عموم مشترک جائز قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک ہی وقت اور ایک ہی جملہ میں ایک لفظ کا متعدد معانی میں استعمال درست ہے ‘ ان کے نزدیک آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
جمہور کے نزدیک عموم مشترک جائز نہیں بلکہ آیت میں عموم مجاز ہوگا یعنی لفظ صلوٰۃ کو ایک مجازی معنی کیلئے استعمال کیا گیا اور وہ معنیء مجازی دو حقیقی معانی میں مشترک ہے یعنی تمہارے کاموں کی درستی اور تمہارے شرف کو ظاہر کرنے کی طرف توجہ (یہ کام فرشتے بھی کرتے ہیں کہ تمہارے لئے استغفار کرتے ہیں اور اللہ بھی کرتا ہے کہ تم پر رحمت نازل فرماتا ہے)۔
بکثرت اہل لغت کا بیان ہے کہ صلوٰۃ کا معنی ہے دعا، صَلَّیْتُ عَلَیْہِ میں نے اس کیلئے دعا کی۔ رسول ﷲ کا ارشاد مبارک ہے : اگر کسی کو کھانا کھلانے بلایا جائے تو دعوت قبول کر لے اور اگر روزہ دار ہو تو دعوت کرنے والوں کیلئے صلوٰۃ (دعا) کرے۔ اللہ کے فرمایا : صَلِّ علَیْھِمْ اے نبی! آپ ان کیلئے دعا کریں ‘ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنَ لَّھُمْآپ کی دعا ان کے لیے باعث تسکین ہے۔
نماز کو صلوٰۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے اندر دعا پڑھی جاتی ہے یعنیاِھْدِنَا الصَّرِاطَ الْمُسْتَقِیْمپڑھا جاتا ہے ‘ جزء پر کل کا اطلاق کردیا گیا (ایک شبہ کیا جا سکتا ہے کہ جب صلوٰۃ کا معنی دعا ہے تو صلوٰۃ اللہ کا کیا معنی کیا اللہ دعا کرتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ) بندوں کیلئے اللہ کی طرف سے دعا اللہ خود اپنی ذات سے بندوں کیلئے رحمت اور مغفرت طلب فرماتا ہے۔ چونکہ خود اپنی ذات سے بندوں کیلئے رحمت طلب کرتا ہے تو اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس نے بندوں پر رحمت کرنی اپنی ذات پر لازم کرلی ہے۔ یہی معنی ہےكتب على نفسه الرحمةکا ایجاب (لازم کرلینا اور طلب دونوں کا معنی ایک ہی ہے قطعی طلب ایجاب ہی ہوتی ہے، لیکن ایجاب (کا معنی یہ نہیں ہے کہ اللہ پر کوئی چیز واجب ہے اور کسی کا خدا پر کوئی لازمی حق ہے جس کو ادا کرنا اس پر لازم ہے بلکہ اس) کا یہ معنی ہے کہ اللہ نے اپنی مہربانی سے ذمہ لے لیا ہے۔ اگر صلوٰۃ کو بمعنیء دعا قرار دیا جائے تو عموم مشترک کا قول لازم نہیں آئے گا، بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا : کیا ہمارا رب صلوٰۃ کرتا ہے؟ حضرت موسیٰ پر یہ سوال نہایت شاق گزرا، اللہ نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی : ان سے کہہ دو کہ میں صلوٰۃ کرتا ہوں مگر میری صلوٰۃ (بمعنیء) رحمت ہے جو ہر چیز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔"

(ج:7 ،ص:175/ 176،ط:ادارۃ المعارف)

معارف القرآن  میں ہے :

"اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیّ" اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے آپ کے لیے دعاءِ رحمت کرتے ہیں، دوسری روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : یصلون یعنی برکت دیتے ہیں۔ بعض نے کہا : اللہ کی طرف سے صلوٰۃ کا معنی ہے رحمت اور صلوٰۃ ملائکہ سے مراد ہے استغفار۔ لفظ صلوٰۃ کی مکمل تنقیح آیت هو الذي يصلي عليكم و ملائكتهکی تفسیر کے ذیل میں کر دی گئی ہے۔"

(تفسیر سورۃ الاحزاب :43،ج:7،ص:230،ط:ادارۃ المعارف)

وفیہ ایضا:

"وَصَلِّ عَلَيْهِمْ،اس میں لفظ صلوٰة سے مراد ان کے لئے دعائے رحمت کرنا ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول یہی ہے کہ بعض لوگوں کے لئے آپ نے لفظ صلوٰة ہی سے دعا فرمائی جیسےاللھم صل علی آل أبي أوفی حدیث میں آیا ہے، لیکن بعد میں لفظ صلوٰة انبیاء علیہم السلام کی مخصوص علامت بن گئی ،اس لیے اکثر فقہاء رحمہم اللہ کا یہ قول ہے کہ اب کسی شخص کے لیے دعا بہ لفظ صلوٰة نہ کی جائے، بلکہ اس لفظ کو صرف انبیاء علیہم السلام کے لئے مخصوص رکھا جائے تاکہ تلبیس اور اشتباہ نہ ہو ( بیان القرآن وغیرہ) ۔"

(سورۃ التوبہ :103 ،ط:ادارۃ المعارف)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144507101986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں