بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سورہ اخلاص صبح وشام اول و آخر درود شریف کے ساتھ پڑھنے سے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہونے سے متعلق حدیث کی تحقیق


سوال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سورۃ  اخلاص ایک دفعہ صبح اور ایک دفعہ شام کو پڑھے اور اول و آخر میں درود شریف پڑھے اس کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوں گے، کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟

جواب

سوال میں  ذکرکردہ سورہ اخلاص  کی فضیلت  والی روایت  تلاش کےباوجود نہیں مل سکی ،سائل  نے کہاں سے نقل کی ہے،اس کاحوالہ  لکھ دے،تاکہ اس کےبعد روایت  کے صحت وسقم کے متعلق  تحقیق کرکے جواب تحریر کیاجاسکے۔ البتہ  کتب احادیث میں سورہ اخلاص  کی  فضیلت کے بارے میں  متعدد روایات  موجود ہیں ،جن میں  سے بعض یہ  ہیں:

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من قرأ كل يوم مائتي مرة (قل هو الله أحد) محي عنه ذنوب خمسين سنة إلا أن يكون عليه دين» . رواه الترمذي والدارمي."

(664/1 ط:المکتب الإسلامی بیروت)

’’یعنی جو شخص دن میں دو سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، اس سے 50 سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، الا یہ کہ اس پر کسی کا قرض ہو۔‘‘

وفیہ ایضاً:

"وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم: " من أراد أن ينام على فراشه فنام على يمينه ثم قرأ مائة مرة (قل هو الله أحد)إذا كان يوم القيامة يقول له الرب: يا عبدي ادخل على يمينك الجنة. رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب."

(664/1 ط:المکتب الإسلامی بیروت)

’’ یعنی جو شخص سونے کا ارادہ کرے اور دائیں کروٹ پر سوئے پھر سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالی فرمائیں گے: اے میرے بندے! اپنی دائیں جانب سے جنت میں داخل ہو جا۔‘‘

صحيح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة. قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "احشدوا. فإني سأقرأ عليكم ثلث القرآن" فحشد من حشد. ثم خرج نبي الله صلى الله عليه وسلم فقرأ: قل هو الله أحد. ثم دخل. فقال بعضنا لبعض: إني أرى هذا خبر جاءه من السماء. فذاك الذي أدخله. ثم خرج نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال: "إني قلت لكم: سأقرأ عليكم ثلث القرآن. ألا إنها تعدل ثلث القرآن."

(باب فضل قراءة قل هو الله أحد،1/ 557 ط:دارإحیاء التراث العربی)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: سب جمع ہوجاؤ تمہیں ایک تہائی قرآن سناؤں گا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے اور  ﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾  پڑھی اور ارشاد فرمایا یہ سورۃ ایک تہائی (یعنی تیسرا حصہ) قرآن کے برابر ہے۔ ‘‘

اسی طرح سورہ اخلاص  کےفضائل  میں یہ بھی  منقول ہے کہ   ایک آدمی کو سورہ الاخلاص سے بہت محبت تھی اور اس محبت کی وجہ سے وہ اس سورت کو ہر نماز کی قراء ت کے اختتام پر پڑھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کی اس سورت سے محبت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیا۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی ٰ اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کے متعلق جو امام تھے اور ہر نماز میں ﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ ضرور پڑھا کرتے تھے اور جب ان سے اس کا سبب در یافت کیا گیا تو کہا: مجھے اس سورت سے بے حدمحبت ہے۔ فرمایا: اس شخص کو خبر دے دو کہ بے شک اللہ تعالیٰ بھی اس شخص سے محبت کرتے ہیں۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على سرية وكان يقرأ لأصحابه في صلاتهم فيختم ب (قل هو الله أحد)فلما رجعوا ذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «سلوه لأي شيء يصنع ذلك» فسألوه فقال لأنها صفة الرحمن وأنا أحب أن أقرأ بها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أخبروه أن الله يحبه»."

(كتاب فضائل القرآن،1/ 656، ط:المكتب الإسلامي)

سنن الترمذی  میں ہے:

"عن أنس بن مالك، قال: كان رجل من الأنصار يؤمهم في مسجد قباء، فكان كلما افتتح سورة يقرأ لهم في الصلاة يقرأ بها، افتتح بقل هو الله أحد حتى يفرغ منها، ثم يقرأ بسورة أخرى معها، وكان يصنع ذلك في كل ركعة. فكلمه أصحابه، فقالوا: إنك تقرأ بهذه السورة، ثم لا ترى أنها تجزيك حتى تقرأ بسورة أخرى، فإما أن تقرأ بها، وإما أن تدعها وتقرأ بسورة أخرى، قال: ما أنا بتاركها، إن أحببتم أن أؤمكم بها فعلت، وإن كرهتم تركتكم. وكانوا يرونه أفضلهم، وكرهوا أن يؤمهم غيره. فلما أتاهم النبي صلى الله عليه وسلم أخبروه الخبر. فقال: «يا فلان، ما يمنعك مما يأمر به أصحابك، وما يحملك أن تقرأ هذه السورة في كل ركعة»؟ فقال: يا رسول الله إني أحبها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن حبها أدخلك الجنة». هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث عبيد الله بن عمر عن ثابت البناني."

(باب ما جاء في سورة الإخلاص،5/ 169 ، ط:مصطفیٰ البابی مصر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100332

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں