بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ایس او پی فالو کرنا ثواب نہیں ہے


سوال

 کیا یہ کہنا کہ ایس او پی فالو کر کے آپ اپنے آپ کو بچا رہے ہیں اور دوسرے مسلمان بھائوں کو بھی جو کہ باعثِ ثواب ہے ، صحیح عقیدہ کہ خلاف ہے؟ کیا یہ کفر تو نہیں ؟ پس منظر موجودہ وباء کا ہے۔ 

جواب

واضح رہے کہ متعدی وبائی مرض کی موجودگی میں صحت مند لوگوں کی تین طرح کی کیفیات ہوسکتی ہیں جن کی طرف احادیث مبارکہ سے رہنمائی ملتی ہیں۔

 1 : توکل کی کیفیت 

جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا جذامی کے ساتھ کھانا تناول فرمانا، اسی طرح حضرت عمرؓ اور حضرت سلمانؓ کا مجذوم کے ساتھ کھانا تناول کرنا، حضرت ابو عبیدہؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ جیسے اجل صحابہ کرام کا "طاعون عمواس" کے زمانہ اپنی گورنری کے وقت اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت ظاہری تدابیر کی طرف متوجہ کیے بغیر لوگوں کو اعمال کی طرف متوجہ کرانا ۔

2 :  ظاہری احتیاط کی کیفیت

جیسے نبی کریمﷺ کا امت کی تعلیم کے لیے جذامی سے بیعت کرنے کے لیے ہاتھ نہ ملانا اورحضرت عمرو بن عاصؓ کا "طاعون عمواس" میں حضرت معاذؓ کی شہادت کے بعد لوگوں کو وادیوں میں پھیل جانے کی اجازت یا حکم (حسبِ اختلافِ روایات) دینا۔

3 : بیوقوفی کی کیفیت میں مبتلا ہونا

جیسے کہ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے جن میں اس جگہ بلا ضرورت جانے کی ممانعت ہے جہاں وباء پھیلی ہو۔

ان تینوں میں سے "توکل" کی کیفیت کا غلبہ ہونا مستحسن ہے، "ظاہری تدابیر" اختیار کرنے کا غلبہ ہونا جائز ہے جبکہ "بیوقوفی" کی کیفیت میں مبتلا ہونا ممنوع ہے۔

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ بیماری کی موجودگی میں اللہ پر توکل کرنا باعثِ ثواب ہے اور بیماری کے ظاہری اسباب سے اجتناب کرنا بھی جائز ہے۔ تاہم ظاہری اسباب  مثلاً ایس او پی فالو کرنا، جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ فاصلہ اختیار کیا جائے، اس کو موثر حقیقی سمجھتے ہوئے یہ عقیدہ رکھنا کہ یوں خود بھی بیماری سے بچیں گے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی بچائیں گے، یہ درست عقیدہ نہیں ہے۔ بلکہ بعض احادیث میں بیماری کے ظاہری اسباب کے موثر حقیقی ہونے کی نفی بھی کی گئی ہے لہذا اسے باعثِ ثواب نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم احاددیث میں چونکہ ظاہری احتیاط رکھنے کی بھی ہدایات ہیں لہذا ایسے عقیدہ کو کفریہ عقیدہ تو نہیں کہا جائے گا، لیکن درست عقیدہ بھی نہیں کہا جائے گا۔

شرح النووي على مسلم (14 / 228):

"وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم أكل مع المجذوم وقال له كل ثقة بالله وتوكلاعليه."

 عمدة القاري شرح صحيح البخاري (21 / 247):

 "وكان ابن عمر وسلمان يصنعان الطعام للمجذومين ويأكلان معهم."

 الفتوح لابن أعثم (1 / 238):

"فلما حضرته الوفاة بعث إلى وجوه المسلمين فدعاهم، فلما دخلوا عليه وجلسوا إليه أقبل عليهم بوجهه فقال: أيها الناس! إني موصيكم بوصية فاقبلوها فإنكم لم تزالوا بخير ما بقيتم متمسكين بها وبعد موتكم، أقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وصوموا وتصدّقوا وحجّوا وتواضعوا وتباذلوا وتواصوا وانصحوا أمراءكم ولا تغرنكم الدنيا فإنّ أحدكم لو عمر ألف سنة ما كان له بد من أن يصير إلى مثل مصيري هذا الذي ترون، لأن الله عزّ وجلّ قد كتب الموت على بني آدم فهم متوفون، وأكيسهم أطوعهم لربه وأعملهم ليوم معاده."

 الفتوح لابن أعثم (1 / 241):

" ثم مات عبد الرحمن بن معاذ رحمة الله عليه، فأمر بغسله وكفنه وحنوطه، ثم صلى عليه ودفنه.

  فلما رجع إلى منزله نزل به ما نزل بابنه من الطاعون، فسقط على فراشه، فجعل المسلمون يختلفون إليه ويدعون له بالسلامة والعافية ويخافون عليه من الموت، فكان لا يدخل عليه قوم منهم إلا وعظهم وقال: أيها الناس! اعملوا وأنتم تستطيعون العمل  من قبل أن تتمنوا العمل فلا تجدون إلى ذلك سبيلا، أيها الناس! أنفقوا مما عندكم ليوم معادكم من قبل أن تهلكوا وتذروا ذلك كله ميراثا، واعلموا أنه ليس لكم من أموالكم إلا منا أكلتم فأفنيتم، ولبستم فأبليتم، وأنفقتم وأعطيتم ما مضيتم، وما سوى ذلك فللوارثين."

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4 / 1711):

" فر من المجذوم فرارك من الأسد " فإنه محمول على بيان الجواز أو لئلا يقع شيء منه بخلق الله فينسب إلى الإعداء بالطبع ليقع في محذور اعتقاد التأثير لغير الله، وقد عمل النبي - صلى الله عليه وسلم - بالأمرين ليشير إلى الجوابين عن قضية الحديث فإنه جاءه مجذوم فأكل معه قائلا: بسم الله ثقة بالله وتوكلا عليه، وجاءه مجذوم آخر ليبايعه فلم يمد إليه يده وقال: قد بايعت، فأولا نظر إلى المسبب وثانيا نظر إلى السبب في مقام الفرق وبين أن كلا من المقامين حق، نعم الأفضل لمن غلب عليه التوكل أو وصل إلى مقام الجمع هو الأول والثاني لغيره ."

الفتوح لابن أعثم (1 / 243):

"بسم الله الرحمن الرحيم ، لعبد الله عمر بن الخطاب أمير المؤمنين من عمرو بن العاص، سلام عليك، أما بعد! فإنه قد حدث من قضاء الله الذي كتبه على عباده أن توفي معاذ بن جبل رحمة الله عليه، فعظم الله أجرك يا أمير المؤمنين في معاذ وأجرنا معك! وقد استأذنني المسلمون في التنحي عن القرى والمدن إلى البراري والفلوات فأذنت لهم في ذلك وعلمت أن إقامة المقيم لا يفوته شيء من أجله، وكذلك الهارب لا يفوت ربّه ولا يتعدى ما قدّر عليه، والسلام عليك ورحمة الله وبركاته ."

عون المعبود ، باب الخروج من الطاعون : ۸/۲۵۵)

"وفي رواية أخرى: فلاتدخلوا عليه أي يحرم عليكم ذلك؛ لأن الإقدام عليه جراءة على خطر وإيقاع للنفس في التهلكة والشرع ناه عن ذلك، قال تعالى: {ولاتلقوا بأيديكم إلى التهلكة} ( وإذا وقع ) أي الطاعون ( وأنتم ) أي والحال أنتم ( بها ) بذلك الأرض ( فرارًا ) أي بقصد الفرار ( منه )؛ فإن ذلك حرام؛ لأنه فرار من القدر وهو لاينفع، والثبات تسليم لما لم يسبق منه اختيار فيه، فإن لم يقصد فرارًا بل خرج لنحو حاجة لم يحرم، قاله المناوي في التيسير."

 مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3 / 1133):

" وقال القاضي: في الحديث النهي عن استقبال البلاء، فإنه تهور."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201665

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں