بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سورہ واقعہ کس وقت پڑھی جائے؟


سوال

سورہ واقعہ کیا مغرب کے بعد پڑھنا ہی ضروری ہے اگر کوئی شخص سونے کے وقت  پڑھے تو اسے کیا وہ فضیلت ملے گی جو حدیث میں وارد ہوئی ہے کیا حدیث میں مغرب کے بعد پڑھنے کا حکم آیا ہے اور اگر حدیث میں مغرب کے بعد پڑھنے کا حکم نہیں ہے تو کیوں سورہ واقعہ کو مغرب کے لیے مخصوص کیا گیا ہے؟

جواب

حضرت عبد اللہ  ابن مسعود  ؓ  سے روایت ہے  کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص رات  میں سورۂ واقعہ پڑھتا ہے وہ کبھی بھی فاقہ کی حالت کو نہیں پہنچتا، حضرت ابن مسعود  ؓ  اپنی صاحب زادیوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ ہر رات  میں یہ سورت پڑھا کریں اس لیے رات کو مغرب یا عشاء کے بعد جس وقت بھی سورہ واقعہ کی تلاوت کرلی جائے، البتہ کوئی مخصوص وقت حدیث میں منقول  نہیں ہے  چوں کہ آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ سونے سے پہلے الم سجدہ اور سورۂ ملک پڑھ کر سوتے تھے اور ظاہر ہے کہ عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ہی سونے کا معمول تھا، اس لیے رات مغرب یا عشاء کے بعد کسی بھی وقت سورۂ واقعہ  کی تلاوت کرلی جائےتو حدیث میں مذکور فضیلت حاصل ہوجائے گی۔

مشكاة المصابيح  میں ہے :

"وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ  الْوَاقِعَةِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا» . وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَأْمُرُ بَنَاتَهُ يَقْرَأْنَ بهَا فِي كل لَيْلَة. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان".

(كتاب فضائل القرآن ،الفصل الثالث ، 1/ 668، المكتب الإسلامي)

سنن الترمذي  میں ہے : 

"حدثنا هريم بن مسعر، قال: حدثنا الفضيل بن عياض، عن ليث، عن أبي الزبير، عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لاينام حتى يقرأ الم تنزيل، وتبارك الذي بيده الملك".

(ابواب الصلاۃ، باب ماجاء فی کراھیۃ النوم  قبل الوتر،317/2،شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100175

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں