بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سوره ممتحنہ میں جن عورتوں کا ذکر ہے اس سے کنواری عورتیں بھی مراد ہیں یا صرف شادی شدہ عورتیں؟


سوال

صلح حدیبیہ میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ کوئی آدمی مدینہ آئے گا تو اس کو مسلمانوں کو واپس کرنا پڑے گا،لیکن اس میں عورتیں شامل نہیں تھیں،تفسیر میں مثال ساری شادی شدہ عورتوں کی ہے،تو اگر کوئی کنواری عورت ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ آتی،تو کیا وہ بھی شامل نہ ہوتی،کیا اس کا بھی استثناء ہے؟اور جو شادی شدہ عورتیں آتیں جن کا سورہ ممتحنہ میں ذکر ہے کہ ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے،کیا اس کے بعد ان کو عدت کرنے کی ضرورت تھی؟

سورہ ممتحنہ کے تحت تفاسیر میں ایک سارہ نامی عورت کا ذکر ہے جو ہجرت کرکے مدینہ آئی تھی،ایک مغنیہ تھی،اور چوٹی میں خط لے کر گئی تھی،کیا یہ سارہ بعد میں مسلمان ہوگئی تھی؟

اسی میں بیعت کا بھی ذکر ہے،تو بیعت توڑنے کا کیا حکم ہے؟ توبہ کرنی ہوتی ہے یا واپس بیعت کرنی ہوتی ہے؟

جواب

1.واضح رہے کہ صلح حدیبیہ میں  آنے والے مسلمانوں کو لوٹانے کے بارے میں دونوں طرح کی روایات موجود ہیں،ایک روایت کے مطابق یہ معاہدہ صرف مردوں کو لوٹانے کا ہوا تھاعورتیں اس میں داخل ہی نہیں تھیں،اور ایک دوسری روایت کے مطابق یہ معاہدہ مرد اور عورت دونوں کو لو ٹانے کے بارے میں ہوا تھا،لیکن پھر بعد میں اللہ تعالی کے حکم سے عورتوں کو لوٹانے کا منع کردیا گیا،بہر صورت جو بھی ہو،واقعات میں اگر چہ شادی شدہ عورتوں کا ذکر ملتا ہے،لیکن آیت اور اس کی تفسیر میں شادی شدہ اورغیر شادی شدہ عورتوں کی کوئی تخصیص یا استثنائی صورت نہیں تھی،بلکہ یہ حکم تمام عورتوں کو شامل تھا،کیوں کہ خواتین کو واپس نہ کرنے کی جو حکمت مفسرین کرام نے بیان فرمائی ہے اس کےمطابق اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اس وجہ سے تھا کیوں کہ عورت کمزور ہوتی ہے،اگر اس کوواپس لوٹایا جائے گا تو ممکن ہے کہ وہ ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے اپنا ایمان چھوڑبیٹھے،اور یہ علت شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں خواتین میں برابر پائی جاتی ہے۔

جہاں تک نکاح کے ٹوٹ جانے کی بات ہے تواس کی تفصیل معارف القرآن للکاندھلویؒ  (ج:8،ص:72،مکتبہ معارف، شهداد پور،سندھ)میں مختصراً یہ درج ہے کہ’ اصل حکم یہ نازل ہوا تھا اگر زوجین میں سے کوئی ایک اسلام پر باقی ہوکر دارالاسلام کی طرف ہجرت کرجائے اور دوسرا کفر و شرک کے ساتھ دار الکفر میں ہی قیام پذیر ہو،تو اس اختلافِ دارین کی وجہ سے دونوں کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔‘جہاں تک عدت کی بات ہے تو اس کی تفصیل فقہاء نے  يہ بیان کی ہے کہ اگر کوئی خاتون دار الکفر سے دار الاسلام کبھی واپس نہ جانے کے ارادے سے آجائے،تو اگر وہ حاملہ ہے تو جب تک وہ وضع حمل نہ کرلے ظاہر الروایۃ کی روایت کے مطابق اس سے کسی مسلمان کے لیے نکاح کرنا جائز نہیں ہے،اور اگر وہ حاملہ نہ ہو تو امام صاحب کے قول کے مطابق اس سے بغیر عدت کے بھی نکاح کرنا جائز ہے۔

2.سارہ نامی وہ خاتون جو کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا خط لے کر گئی تھی،ابن مندہ کی روایت کے مطابق وہ مسلمان ہوگئی تھیں۔

3.بیعت کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ بیعت،اگر بیعتِ اسلام ہو تو اس بیعت کو توڑنا (یعنی جن چیزوں کا اس بیعت میں التزام کیا ہو ان کا انکار کرنا)کفر ہے،اور اگر وہ بیعتِ خلافت ہو تو امام کی اطاعت سے نکلنا یا بیعت توڑدینا کسی شرعی وجہ کے بغیر حرام ہے اور بیعت توڑنے والے پر لازم ہے کہ دوبارہ امام کی اطاعت میں داخل ہوکر اس کا ساتھ دے،اس کے لیے صرف توبہ کافی نہیں ہے،اسی طرح اگر بیعتِ اسلام مراد ہو تو اس کو توڑنے پر بھی صرف توبہ کافی نہیں ہے،بلکہ دوبارہ اسلام میں داخل ہونا ضروری ہے،بیعت کی ایک اور قسم بیعتِ توبہ بھی ہےجس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان مرد یا عورت کسی شیخ ِ کامل،متبعِ سنت کے ہاتھ پر اپنی سابقہ زندگی میں ہونے والے گناہوں پر توبہ کرےآئندہ کی زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کا وعدہ کرکے بیعت کرے،اس کو توڑنے کا حکم یہ ہے کہ اگر شیخ سے فائدہ نہ ہورہا ہو یعنی گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کا شوق پیدا نہ ہو اور آخرت کا خوف پیدا نہ ہو توموجودہ شیخ سے اجازت لے کراس کی بیعت سے نکل کر کسی اور کی بیعت میں داخل ہونا جائز ہے،لیکن فائدہ ہونے کے باوجودایک سے بیعت کرنے کے بعد،دوسرے لوگوں کے پاس جاکر ان سے بیعت کرنا یہ بے برکتی کا سبب ہے،اور ایسا آدمی اصلاح سے محروم رہتا ہے۔

"تفسير البغوي"میں  ہے:

"وجاءت المؤمنات مهاجرات، وكانت أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط ممن خرج إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ مهاجرة وهي عاتق، فجاء أهلها يسألون النبي صلى الله عليه وسلم أن يرجعها إليهم فلم يرجعها إليهم لما أنزل الله فيهن: "إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن الله أعلم بإيمانهن" إلى "ولا هم يحلون لهن."

(ص:٩٧،ج:٨،سورۃ الممتحنة،الآية:١٠،ط:دار طيبة)

وفيه ايضا:

"وأصله أن الصلح هل كان وقع على رد النساء؟ فيه قولان: أحدهما أنه وقع على رد الرجال والنساء جميعا لما روينا: أنه لا يأتيك منا أحد وإن كان على دينك إلا رددته إلينا ثم صار الحكم في رد النساء منسوخا بقوله: "فلا ترجعوهن إلى الكفار" فعلى هذه كان رد المهر واجبا.والقول الآخر: أن الصلح لم يقع على رد النساء، لأنه روي عن علي: أنه لا يأتيك منا رجل وإن كان على دينك إلا رددته إلينا وذلك لأن الرجل لا يخشى عليه من الفتنة في الرد ما يخشى على المرأة من إصابة المشرك إياها وأنه لا يؤمن عليها الردة إذا خوفت، وأكرهت عليها لضعف قلبها وقلة هدايتها إلى المخرج منها بإظهار كلمة الكفر مع التورية، وإضمار الإيمان ولا يخشى ذلك على الرجل لقوته وهدايته إلى التقية."

(ص:١٠٠،ج:٨،سورۃ الممتحنة،الآية:١٠،ط:دار طيبة)

"تفسير الكشاف"میں ہے:

"إذا جاءكم المؤمنات سماهن مؤمنات لتصديقهن بألسنتهن ونطقهن بكلمة الشهادة ولم يظهر منهن ما ينافي ذلك. أو لأنهن مشارفات لثبات إيمانهن بالامتحان فامتحنوهن فابتلوهن بالحلف والنظر في الأمارات ليغلب على ظنونكم صدق إيمانهن، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول للممتحنة: «بالله الذي لا إله إلا هو ما خرجت من بغض زوج، بالله ما خرجت رغبة عن أرض إلى أرض، بالله ما خرجت التماس دنيا، بالله ما خرجت إلا حبا لله ولرسوله."

(ص:٥١٧،ج:٤،سورۃ الممتحنة،الآية:١٠،ط:دار الريان)

"بدائع الصنائع"میں ہے:

"ويجوز نكاح المسبية بغير السابي إذا سبيت وحدها دون زوجها وأخرجت إلى ‌دار ‌الإسلام بالإجماع؛ لأنه وقعت الفرقة بينهما ولا عدة عليها... وكذلك المهاجرة وهي المرأة خرجت إلينا من دار الحرب ‌مسلمة مراغمة لزوجها يجوز نكاحها، ولا عدة عليها في قول أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد: عليها العدة ولا يجوز نكاحها ... ولأبي حنيفة قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات} [الممتحنة: 10] إلى قوله عز وجل: {ولا جناح عليكم أن تنكحوهن إذا آتيتموهن أجورهن} [الممتحنة: 10] أباح تعالى نكاح المهاجرة مطلقا من غير ذكر العدة وقوله تعالى: {ولا تمسكوا بعصم الكوافر} [الممتحنة: 10] نهى الله تعالى المسلمين عن الإمساك والامتناع عن نكاح المهاجرة لأجل عصمة الزوج الكافر وحرمته، فالامتناع عن نكاحها للعدة، والعدة في حق الزوج يكون إمساكا وتمسكا بعصمة زوجها الكافر، وهذا منهي عنه، ولأن العدة حق من حقوق الزوج ولا يجوز أن يبقى للحربي على المسلمة الخارجة إلى ‌دار ‌الإسلام حق."

(ص:٢٦٩،ج:٢،کتاب النكاح،فصل أن لا تكون معتدة الغير،ط:دار الکتب العلمیة)

"رد المحتار على الدر المختار"میں ہے:

"(ومن) (‌هاجرت إلينا) ‌مسلمة أو ذمية (حائلا) (بانت بلا عدة) فيحصل تزوجها، أما الحامل فحتى تضع على الأظهر لا للعدة بل لشغل الرحم بحق الغير."

(قوله ومن ‌هاجرت إلينا إلخ) المهاجرة التاركة دار الحرب إلى دار الإسلام على عزم عدم العود، وذلك بأن تخرج ‌مسلمة أو ذمية أو صارت كذلك بحر، وهذه المسألة داخلة فيما قبلها، لكن ما مر فيما إذا خرج أحدهما مهاجرا وقعت الفرقة بينهما، والمقصود من هذه أنه إذا كانت المهاجرة المرأة ووقعت الفرقة فلا عدة عليها عند أبي حنيفة سواء كانت حاملا أو حائلا فتزوج للحال، إلا الحامل فتتربص لا على وجه العدة بل ليرتفع المانع بالوضع.وعندهما عليها العدة فتح وبه يظهر أن تقييد المصنف بالحائل أي غير الحبلى لا وجه له، بخلاف قول الكنز وتنكح المهاجرة الحائل بلا عدة فإنها للاحتراز عن الحامل كما علمت لكنه يوهم أن الحامل لها عدة كما توهمه ابن مالك وغيره وليس كذلك (قوله على الأظهر) مقابله رواية الحسن أنه يصح نكاحها قبل الوضع، لكن لا يقربها زوجها حتى تضع كالحبلى من الزنا ورجحها الأقطع، لكن الأولى ظاهر الرواية نهر، وصححها الشارحون وعليها الأكثر بحر (قوله لا للعدة) نفي لقولهما."

(ص:١٩٣،ج:٣،كتاب النكاح،باب نكاح الكافر،ط:ايج ايم سعيد)

"أسد الغابة في معرفة الصحابة"میں ہے:

"أم سارة وقيل سارة مولاة لقريش.ذكرها في حديث أنس.روى قتادة، عن أنس، أن أم سارة كانت مولاة لقريش، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فشكت إليه الحاجة، ثم إن رجلا بعث معها بكتاب إلى أهل مكة لتحفظ عياله، فنزلت: {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} .

أخرجها ابن منده، وأبو نعيم، وقال أبو نعيم: لا أعلم أحدا ذكرها في الصحابة ونسبها إلى الإسلام، غير المتأخر يعني: ابن منده.قلت: هذه القصة هي قصة حاطب بن أبي بلتعة."

(ص:٣٢٥،ج:٧،حرف السین،أم سارة،ط:دار الكتب العلمية)

"ألموسوعة الفقهية الكويتية"میں ہے:

"يحرم على المسلم إذا بايع الإمام أن ينقض بيعته أو يترك طاعته، إلا لموجب شرعي يقتضي انتقاض البيعة، كردة الإمام ونحو ذلك من الأسباب... فإن نقض البيعة لغير ذلك فهو حرام،  وقد ورد النهي عنه في قول الله تعالى: {إن الذين يبايعونك إنما يبايعون الله يد الله فوق أيديهم فمن نكث فإنما ينكث على نفسه ومن أوفى بما عاهد عليه الله فسيؤتيه أجرا عظيما} وقول النبي صلى الله عليه وسلم: من بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه إن استطاع ."

(ص:٢٨٠،ج:٩،حرف الباء،البیعة،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)

شریعت و طریقت میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب تحریر فرماتے ہیں:

"اور بلا ضرورت محض ہَوِسناکی سے کئی کئی جگہ بیعت کرنا بہت برا ہے،اس سے بیعت کی برکت جاتی رہتی ہے،اور شیخ کا قلب مکدر ہوجاتاہے،اور نسبت قطع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہےاور ہر جائی مشہور ہوجاتا ہے۔"(ص:490،ط:قرآن گھر،اردو بازار،دہلی)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411101663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں