بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے سے قبل نیا وضو کرنا


سوال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو وضو کرکے سو ؤ،کیا نماز عشاء کے وضو کے ساتھ سو سکتے ہیں یاسونے کے لیے نیا وضو کریں؟ مہربانی کر کے راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ سونے سے قبل نیا وضوکرکے سونا مسنون ہے ،چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے:

صحیح البخاری میں ہے:

"عن ‌البراء بن عازب قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌إذا ‌أتيت ‌مضجعك فتوضأ وضوءك للصلاة، ثم اضطجع على شقك الأيمن، ثم قل: اللهم أسلمت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت. فإن مت من ليلتك، فأنت على."

(کتاب الوضو،‌‌باب فضل من بات على الوضوء،ج:1،ص:58،رقم:247،ط:السلطانیہ)

ترجمہ:"جب بستر پر جاؤ تو نماز کی طرح وضو کرو پھر دائیں کروٹ لیٹ کر کہو:"اللهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ... وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔"

سنن أبي داود میں ہے:

"حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، أخبرنا عاصم بن بهدلة، عن شهر بن حوشب، عن أبي ظبية، عن معاذ بن جبل عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "ما من مسلم يبيت على ذكر طاهرا، فيتعار من الليل، فيسأل الله خيرا من الدنيا والآخر ة إلا أعطاه إياه."

(  كتاب الأدب، باب في النوم على طهارة،ج:5،ص:186،رقم:5042،ط: دار ابن حزم)

ترجمه:"حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص وضو کی حالت میں ذکر کرتے ہوئے سو جائے اور پھر جب رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھلے یا بستر پر وہ کروٹ لے، اس وقت وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کی جو بھی دعا مانگے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ ضرور عطا فرمائیں گے۔"

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن أبي غطيف الهذلي قال: سمعت عبد الله بن عمر بن الخطاب في مجلسه في المسجد، فلما حضرت الصلاة قام فتوضأ وصلى، ثم عاد إلى مجلسه، فلما حضرت العصر قام فتوضأ وصلى، ثم عاد إلى مجلسه، فلما حضرت المغرب قام فتوضأ وصلى، ثم عاد إلى مجلسه، فقلت: أصلحك الله، أفريضة، أم سنة الوضوء عند كل صلاة، قال: أوفطنت إلي، وإلى هذا مني؟ فقلت: نعم، فقال:، لا لو توضأت لصلاة الصبح، لصليت به الصلوات كلها، ما لم أحدث، ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من توضأ على كل طهر، فله عشر حسنات، وإنما رغبت في الحسنات."

‏‏‏‏ ترجمہ:"ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ان کی مجلس میں سنا، پھر جب نماز کا وقت ہوا، تو وہ اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی، پھر مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے، پھر جب عصر کا وقت آیا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز پڑھی، پھر اپنی مجلس میں واپس آئے، پھر جب مغرب کا وقت ہوا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی پھر اپنی مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے تو میں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، کیا یہ وضو (ہر نماز کے لیے) فرض ہے یا سنت؟ کہا: کیا تم نے میرے اس کام کو سمجھ لیا اور یہ سمجھا ہے کہ یہ میں نے اپنی طرف سے کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، بولے: نہیں، (ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض نہیں) اگر میں نماز فجر کے لیے وضو کرتا تو اس سے وضو نہ ٹوٹنے تک ساری نماز پڑھتا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا، تو اس کے لیے دس نیکیاں ہیں“، اور مجھ کو ان نیکیوں ہی کا شوق ہے۔"

(کتاب الطھارت،باب الوضوء على الطهارة،ج:1،ص:170،ط:داراحیاءالکتب)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407102143

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں