بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سودی رقم سے رشوت دینا


سوال

سودی رقم کو رشوت میں دینا کیسا ہے ؟

جواب

سودی رقم استعمال کرنا الگ گناہ ہے، نیز کسی کو رشوت دینا الگ گناہ ہے لہذا مذکورہ عملدو بڑے گناہوں کا مجموعہ ہے جس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

سودی رقم ثواب کی نیت کیے بغیر (نیز ناجائز پیسوں کے وبال سے بچنے کی نیت سے) صدقہ کرنا لازم ہے۔

العرف الشذي شرح سنن الترمذي (1/ 38):

إن ها هنا شيئان:

أحدهما: ائتمار أمر الشارع والثواب عليه.

والثاني: التصدق بمال خبيث، والرجاء من نفس المال بدون لحاظ رجاء الثواب من امتثال الشارع، فالثواب إنما يكون على ائتمار الشارع، وأما رجاء الثواب من نفس المال فحرام، بل ينبغي لمتصدق الحرام أن يزعم بتصدق المال تخليص رقبته ولا يرجو الثواب منه، بل يرجوه من ائتمار أمر الشارع، وأخرج الدارقطني في أواخر الكتاب: أن أبا حنيفة رحمه الله سئل عن هذا فاستدل بما روى أبو داود من قصة الشاة والتصدق بها.\"

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144206201548

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں