بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1442ھ 29 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

سودی قرضہ لینے والے کی طرف سے گارنٹی دینے کا حکم


سوال

کوئی شخص بینک سے لون لیتا ہے اور دوسرا شخص اس کی طرف سے گارنٹی دیتا ہے، کیا گارنٹی دینے والا بھی گناہ گار ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس معاملہ پر گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ یہ سب برابر ہیں، لہذا اگر کوئی شخص سودی قرضہ لینے والے کی گارنٹی دیتا ہے تو گناہ میں تعاون کی وجہ سے وہ بھی گناہ گار ہو گا۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»".

(صحیح مسلم، باب لعن آکل الربوٰ و موکلہ، ج:۳ ؍ ۱۲۱۹، ط:داراحیاءالتراث العربی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201377

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں