بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سودی قرضہ سے کاروبار کرنے کا حکم


سوال

میں پانچ لاکھ روپے بینک سے بطور قرض لینا چاہتا ہوں اپنے کاروبار میں مشینری خریدنے کے لیے اس پر بینک مجھ سے ایک لاکھ سا ٹھ ہزار سود لے گا، لیکن گورنمنٹ اس پر ایک لاکھ 75 ہزار کی سبسڈی اماؤنٹ بینک کو دیتا ہے تو کیا یہ کاروبار میرے لیے حلال اور جائز ہو سکتا ہے کیا؟

جواب

سود کا لین دین شرعاً ا س قدر قبیح اور ناپسندیدہ ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ اعلان جنگ قرار دیاگیا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کا   مشینری خریدنے کے لیے بنک سے سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں ہے،  البتہ سود پر قرضہ حاصل کرکے اس رقم سے حلال کاروبار کیا گیا تو دیگر شرعی تقاضے پورے کرنے کی بنا پر یہ کاروبار  فی نفسہٖ مباح ہوگا، تاہم سود ادا کرنے کا گناہِ کبیرہ  بہر حال ہوگا، لہذا اس سے حتی الامکان اجتناب ضروری ہے۔

باری تعالی کا ارشاد ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾

[البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠ ]

ترجمہ:" اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے. اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔"

(بیان القرآن )

   مشكاة المصابيح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءا أيسرها إثما أن ينكح الرجل أمه»."

  ( باب الربوا ، ج:1، ص:246،  ط؛ قدیمی)

فتاوی شامی میں ہے:

"اكتسب ‌حراما واشترى به أو بالدراهم المغصوبة شيئا. قال الكرخي: إن نقد قبل البيع تصدق بالربح وإلا لا وهذا قياس...

قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول."

(ج:5، ص:235، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101924

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں