بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سودی قرضہ کا معاملہ ختم کرتے ہوئے سود کی رقم ادا کرنا


سوال

میں نے بہت سی  موبائل ایپ کمپنی والوں سے سود پر لون لیا تھا ،اب یہ کمپنیاں حکومت وقت نے بند کر دیاہے، اب میرے  لیے کیا حکم ہے؟  چوں کہ ان کمپنی والوں کا کوئی رابطہ نمبر بھی نہیں ہے،  دوسری بات اگر کمپنی والوں سے  رابطہ ہو گیا تو کیا ان کا اصل رقم ان کو واپس کروں یا سود کے ساتھ واپس کروں ؟اور اگر ایک سال کے اندر رابطہ نہیں ہوا تو میں ان کے اصل رقم جو ان کا مجھ پر قرض ہےاس  کا کیا کرو ں، جب کہ میں نے اپنے اس عمل پر اللہ تبارک وتعالی سے معافی بھی مانگی اور آئندہ  کے لیے توبہ بھی کر لی؟

جواب

واضح رہے کہ سودی لین دین کرنا حرام ہے، لہذا   کاروبار کی خاطر سودی قرض لینا جائز نہیں، قرآن کریم اور سنتِ مطہرہ میں سودی لین دین کرنے والوں کے بارے میں کافی وعیدیں آئی ہیں، سودی معاملات کرنے والوں سے اللہ تعالی اور اس کے رسول کا اعلانِ جنگ ہے، سودی لین دین سے انسان کے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے، سودی معاملے سے بظاہر مال کی کثرت معلوم ہوتی ہے، لیکن انجامِ کار تباہی اور بربادی ہے۔

لہذا  صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا  سودی معاہدہ کرنا اور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں تھا،  اب  چوں کہ یہ  کمپیناں بند ہو چکی ہیں ،اور ان سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہے تو اگر اب  صرف اصل رقم واپس کر سکتے ہیں تو  واپس کردیں، اگر رابطے کی کوئی صورت نہ ہو تو  اتنی رقم ان کمپنیوں کی طرف سے نیت کرکے فقراء کو صدقہ کردیں ۔

قرآنِ مجید میں ہے:

"{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (278) فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279) وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (280) }."( سورۃ البقرۃ)

  ترجمہ:" اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔  پھر اگر تم (اس پر عمل) نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے (یعنی تم پر جہاد ہوگا) اور اگر تم توبہ کرلو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جاویں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کوئی ظلم کرنے پائے گا۔اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہےآسودگی تک، اور یہ کہ معاف ہی کردو اور زیادہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم کو اس (اس کے ثواب کی) خبر ہو۔(بیان القرآن)"

شعیب الایمان میں ہے:

"حدثنا حجاج، حدثنا شريك، عن الركين بن الربيع، عن أبيه، عن ابن مسعود، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " الربا وإن كثر، فإن عاقبته تصير إلى قل."

(في قبض اليد عن الأموال المحرمة ويدخل فيه تحريم السرقة وقطع،٣٩٢/٤،ط : دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر....الخ"

(کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی القرض، مطلب کل قرض جر نفعاً حرام،ج:۵،ص:۱۶۶،ط:سعید)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144504101101

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں