بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض ادا کرنے کا گناہ کس کے ذمے ہوگا؟


سوال

السلام علیکم زید نے بینک سے قرضہ لےکر بکر کو کاروبار میں انویسٹ کرنے کیلیے دیا۔ کاروبار میں نقصان ہوگیا،اب بکر زید کوہرماہ اتنی رقم دیتاہےجس سےوہ بینک سےلیےہوےقرض کی ماہانہ قسط اداکرسکے، یہ رقم بکر تب تک دیگا جبتک کہ وہ زید سے لی ہوئی رقم واپس نہیں کر دیتا۔صورت مذکور میں بینک سے لی ہوئی رقم پر ماہانہ شرح سودکی ادائیگی کا گناہ کس کے سر ہوگا زیدکےسریابکر کےسرپر؟

جواب

بینک سے لی ہوئی رقم پرشرح سود کی ادائیگی کاگناہ اسی شخص پرہوگا جس نے سودی معاہدہ کرکے یہ رقم حاصل کی تھی اور اسی معاہدے کے تحت ادائیگی بھی کررہاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143504200003

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں