بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض


سوال

بینک والے ایک شخص کو پچاس لاکھ نقد دیتے ہیں اور پھر اسی شخص سے نوے لاکھ قسط وار وصول کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

مذکورہ صورت سود کی ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 166):

"في الأشباه: كل قرض جرّ نفعًا حرام."

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144204201284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں