بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سود کی رقم سے جی ایس ٹی(GST) ادا کرنے کا حکم


سوال

انڈیا میں بہت سی چیزیں خریدنے پر ٹیکس لیا جاتا ہے جس کو جی ایس ٹی بولا جاتا ہے مثلاً کتاب لینے پر یا وائی فائی ریچارج کرنے پر یا نیا فون لینے پر جی ایس ٹی لگتا ہے تو کیا بینک سے ملنے والا سود جی ایس ٹی میں دے سکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جی ایس ٹی کی مد میں سود کی رقم سے ادائیگی کرنا شرعا ناجائز  ہے۔ سائل چونکہ کافروں کے ملک میں رہتا ہے تو سائل کو  چاہیے کہ جو سود اس کے اکاؤنٹ میں جمع ہوچکا ہے اس کو اکاؤنٹ سے نکال کر  ثواب کی نیت بغیر سے کسی مستحق زکوۃ شخص کو صدقہ کردے، یہ سود کی رقم اکاؤنٹ میں نہ چھوڑے کیونکہ قوی اندیشہ ہے کہ یہ رقم مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال کی جائے گی اور فی الفور اپنا سودی اکاؤنٹ بند کروادے اور اگر ضرورت ہو تو پھر صرف کرنٹ اکاؤنٹ کھول لے یا اسی اکاؤنٹ کو کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کروادے۔   ہاں اگر کسی نے لا علمی میں سود کی رقم بینک سے نکال لی ہے اور بینک بھی حکومت کا ہے  تو ٹیکس کی مد میں وہ رقم ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

"وشرط الربا في العقد مفسد."

(کتاب البیوع، فصل فی شرائط جریان الربا فی البیع ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۹۲، دار الکتب العلمیۃ)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"(وأما) صفة هذا الحكم فنقول له صفات منها أنه ملك غير لازم بل هو مستحق الفسخ فيقع الكلام في هذه الصفة في مواضع، في بيان أن الثابت بهذا البيع مستحق الفسخ، وفي بيان من يملك الفسخ، وفي بيان ما يكون فسخا، وفي بيان شرط صحة الفسخ، وفي بيان ما يبطل به حق الفسخ بعد ثبوته أما بيان أن الثابت بهذا البيع أوجب الفسخ فهو أن البيع وإن كان مشروعا في ذاته فالفساد مقترن به ذكرا ودفع الفساد واجب ولا يمكن إلا بفسخ العقد فيستحق فسخه لكن لغيره لا لعينه حتى لو أمكن دفع الفساد بدون فسخ البيع لا يفسخ كما إذا كان الفساد لجهالة الأجل فأسقطاه يسقط ويبقى البيع مشروعا كما كان؛ ولأن اشتراط الربا وشرط الخيار مجهول وإدخال الآجال المجهولة في البيع ونحو ذلك معصية، والزجر عن المعصية واجب واستحقاق الفسخ يصلح زاجرا عن المعصية؛ لأنه إذا علم أنه يفسخ فالظاهر أنه يمتنع عن المباشرة."

(کتاب البیوع، فصل فی حکم البیع ج نمبر ۵ ص نمبر ۳۰۰۔دار الکتب العلمیۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه الحرمة تنتقل مع العلم إلا للوارث إلا إذا علم ربه.

(قوله إلا إذا علم ربه) أي رب المال فيجب على الوارث رده على صاحبه (قوله وهو حرام مطلقا على الورثة) أي سواء علموا أربابه أو لا فإن علموا أربابه ردوه عليهم، وإلا تصدقوا به كما قدمناه آنفا عن الزيلعي.

أقول: ولا يشكل ذلك بما قدمناه آنفا عن الذخيرة والخانية لأن الطعام أو الكسوة ليس عين المال الحرام فإنه إذا اشترى به شيئا يحل أكله على تفصيل تقدم في كتاب الغصب بخلاف ما تركه ميراثا فإنه عين المال الحرام وإن ملكه بالقبض والخلط عند الإمام فإنه لا يحل له التصرف فيه أداء ضمانه، وكذا لوارثه ثم الظاهر أن حرمته على الورثة في الديانة لا الحكم فلا يجوز لوصي القاصر التصدق به ويضمنه القاصر إذا بلغ تأمل."

(کتاب الحظر و الاباحۃ فصل فی البیع ج نمبر ۶ ص نمبر۳۸۵،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں