بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ذو الحجة 1443ھ 02 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

سود کی رقم سے بنے ہوئے مکان میں کرایہ پر رہنا


سوال

یو کے میں ایک شخص عبداللہ نے مورگیج کے تحت بینک سے مکان لیا ہے، جو کہ سودی لین دین پر مشتمل ہے، اب عبداللہ کو زید نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ اس مکان کے کسی حصے میں رہوں گا اور کچھ رقم میں دوں گا، جس سے آپ کو قسط کی ادائیگی آسان ہوگی سوال یہ ہے کہ آیا زید کے لیے اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عبداللہ کا سودی قرضہ لے کر گھر خریدنا جائز نہیں تھا، البتہ جب زید   عبداللہ کے ساتھ  رقم دے کر ایک حصے میں رہ رہا ہے، تو وہ رقم زید بطور کرایہ کے دے رہا ہے، لہٰذا زید کا اس مکان میں بطور کرایہ کے رہنا درست ہے۔

قرآن کریم میں ہے: 

وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا .[البقرة:275]

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو هدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا". 

(14/513، باب کل قرض جرّ منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارۃ القرآن)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144311100006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں