بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سود معاملے میں کسی کا ضامن بننا


سوال

ایک جاننے والے نے بتایا کہ ایک ادارہ کشف فاونڈیشن جو بغیر سود کے قرض دیتا ہے، جس کے لیے ایک گارنٹی دینے والے شخص کی ضرورت ہےآپ میرے گارینٹر ہو جائیں، وہاں جانے پر معلوم ہوا کہ اس قرض کی واپسی پر ساتھ اضافی رقم بھی ادا کرنی پڑتی ہے، سوال کرنے پر انھوں نے بتایا کہ ہمارے پاس فتاوی جات موجود ہیں، کہ ہمارا یہ معاملہ سود نہیں اور علماء کی تائید بھی حاصل ہے، بعد التحقیق معلوم ہوا کہ وہ کام تو ناجائز اور سود ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا  لاعلمی میں ان کا گارینٹر بننے سے بندہ بھی گناہ گار ہے،نیز اب اس معاملے سے نکلنے کی کیا صورت کی جائے؟ جب کہ قرض لینے والے کو اس گناہ کہ سنگینی کا اندازہ نہیں کہ وہ ادائیگی کی فکر کرے۔

جواب

واضح رہے کہ سود لینا،دینا،اس پر گواہ بننایا اس میں کسی قسم کا معاون بنناشرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ [البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠ ]

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ (بیان القرآن )

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء."

( كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ٣ / ١٢١٩، رقم الحديث: ١٥٩٨، ط: دار إحياء التراث العربي ببيروت)

ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں"

 صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل نے لاعلمی میں سودی معاہدہ میں ضامن بناہے  تو لاعلمی کی صورت میں  گناہ گار نہیں ہوگا ،البتہ  سائل  کو  چاہیے کہ وہ اپنی اس ضمانت اور ذمہ داری کو ختم کروائےاورلاعلمی میں جو گناہ ہوا ہے اس پر  توبہ و استغفار کرےاس کے علاوہ اپنے جاننے والے  کو  سودی قرضے کی حرمت سے آگاہ کر کے اس گناہ سے توبہ کروائے کہ جلد سے جلد اس سودی قرضہ سے جان چھڑانے کے لیے آمادہ کرے،  آئندہ کےلیے سائل اس بات کا اہتمام کرےکہ کوئی بھی معاملہ کرنے سے پہلے مستند مفتیانِ کرام سے رجوع کرکے مسئلہ کا شرعی حکم معلوم کرکے اس کے مطابق  عمل کرے۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"{ولا تعاونوا على الاثم و العدوان}، یأمر تعالی عبادہ المؤمنین بالمعاونة علی فعل الخیرات وهوالبر و ترك المنکرات و هو التقوی، و ینهاهم عن التناصر علی الباطل و التعاون علی المآثم والمحارم".

(تفسیر ابن کثیر، ج:2، ص:10، ط:دارالسلام)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101950

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں