بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سود کا لینا دینا دونوں حرام ہیں / سود سے بچنا ہر شخص کی اپنی ذمہ داری بھی ہے


سوال

میں امریکا میں رہتا ہوں، یہاں آپ جانتے ہوں گے کہ لوگ سود پر گھر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ قرآن کی تفسیر پڑھو تو پتا چلے گا کہ سود لینے والے پر حرام ہے، دینے والے پر نہیں، میں اس بات کو نہیں مانتا، اور یہ کہتے ہیں کہ اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے، ہماری تو مجبوری ہے، اور  مجھے کہتے ہیں کہ تم مولوی نہ بنو، قرآن کی تفسیر پڑھے بنا کہتے ہو، آپ تفصیل سے یہ مسئلہ بتا سکتے ہیں؟

جواب

 پہلی  بات  تو یہ ہے کہ قرآنِ کریم اللہ پاک کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے، یہ کتابِ مقدس حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر  اب تک اور اب کے بعد رہتی دنیا تک مشعلِ راہ بنی رہے گی؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو اتنا جامع اور مانع بنایا ہے کہ ایمانیات، عبادات، معاملات، سماجیات، معاشیات و اقتصادیات کے تمام  اصول قرآنِ کریم میں مذکور ہیں۔ ہاں! ان کی تفصیلات احادیثِ نبویہ میں موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنِ کریم میں تدبر و تفکُّر کرنے کا حکم دیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ یہ تدبُّر و تفکُّر میرے منتخب بندے، جس کو میں نے اپنا رسول (ﷺ) بناکر بھیجا ہے، ان کے اقوال و افعال کی روشنی میں ہی ہونا چاہیے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

{وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ}

ترجمہ:’’یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اُتاری ہے، تاکہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپ اسے کھول کھول کر بیان کردیں، شاید کہ وہ غوروفکر کریں۔‘‘ (النحل :۴۴)  

دوسری جگہ ارشاد ہے:

{وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ ...} الاية

ترجمہ: ’’یہ کتاب ہم نے آپ پر اس لیے اُتاری ہے، تاکہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔‘‘ (النحل: ۶۴)

 اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیات میں واضح طور پر بیان فرمادیا کہ قرآنِ کریم کے مفسرِ اول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمتِ مسلمہ کے سامنے قرآنِ کریم کے احکام و مسائل کھول کھول کر بیان کریں۔ اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعہ قرآنِ کریم کے احکام و مسائل بیان کرنے کی ذمہ داری بحسن و خوبی انجام دی۔ صحابۂ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے ذریعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال یعنی حدیثِ نبوی کے ذخیرہ سے قرآنِ کریم کی پہلی اہم اور بنیادی تفسیر انتہائی قابلِ اعتماد ذرائع سے اُمتِ مسلمہ کوپہنچی ہے، لہٰذاقرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کے ذریعہ دین سیکھنا  اور سکھانا حدیث کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

سود کے مسئلہ میں بھی قرآنِ کریم نے اصول بیان کیے ہیں، جن کی تفسیر آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے ارشار فرمائی، چنانچہ سود کا لینا اور دینا دونوں  قرآن و حدیث کی رو سے حرام ہے، اسلام میں جس طرح سود لینا حرام و ناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام و ناجائز ہے اور یہ حکم ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے ہے، صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ سود  سے بچے، بے شک کسی ریاست  میں سودی نظام کا خاتمہ وہاں کی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اگر ریاست ا س کا اہتمام نہیں کرتی تو ہر شخص پر  یہ لازم ہے کہ وہ اپنے طور پر سود سے بچے، قرآنِ کریم میں سود کی حرمت کا ذکر مطلق ہے، اس میں  یہ تخصیص نہیں ہے کہ سود لینے والے پر حرام ہے دینے والے پر نہیں اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سودی نظام ختم کرے، پھر احادیثِ مبارکہ میں اللہ کے نبی ﷺ نے سود کی تمام اقسام کو حرام قرار دیا ہے، ذیل میں قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں:

اللہ تبارک وتعالیٰ کا  ارشادہے:

{وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا}[ البقرہ۲۷۵]

ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔

{ یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ} [البقرہ۲۷۶]

ترجمہ:اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔

{یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه}

ترجمہ:…’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے‘‘۔ [البقرۃ:۲۷۸،۲۷۹-بیان القرآن]

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»".

(صحیح مسلم، باب لعن آکل الربوٰ و موکلہ، ج:۳ ؍ ۱۲۱۹ ، ط:داراحیاءالتراث العربی)

ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے والےپر، سود کھلانے والے پر، سودی معاملہ کے لکھنے والے پر اور سودی معاملہ میں گواہ بننے والوں پر اور ارشاد فرمایا کہ یہ سب (سود کے گناہ میں )برابر ہیں۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «اجتنبوا السبع الموبقات» قالوا: يا رسول الله، وما هن؟ قال: «الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات»."

(صحيح البخاري 8/ 175 ط:دار طوق النجاة)

ترجمہ: حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابہٴ کرامنے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ سات بڑے گناہ کون سے ہیں (جو انسانوں کو ہلاک کرنے والے ہیں)؟ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرما: (۱)شرک کرنا، (۲) جادو کرنا، (۳)کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، (۴)سود کھانا، (۵)یتیم کے مال کو ہڑپنا، (۶)(کفار کے ساتھ جنگ کی صورت میں) میدان سے بھاگنا، (۷)پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔  

 حدیث شریف میں ہے:

’’عن عبد اللّٰه بن حنظلة غسیل الملائکة أن النبي صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لَدرهمُ ربًا أشد عند اللّٰه تعالٰی من ست وثلثین زنیةً في الخطیئة‘‘. (دار قطنی)

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک درہم سود کا کھانا چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ ہے۔

نیز سود کا انجام تباہی اور بربادی ہی ہے۔ سودی معاملے کی سنگینی کا اندازا اس سے لگایا جائے کہ اس گناہ کا اثر صرف براہِ راست سودی معاملہ کرنے والے دو اشخاص تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے متعلقہ افراد (جو کسی بھی طرح اس سودی معاملہ میں معاون بنتے ہیں، مثلاً: لکھنے والا، گواہ، وغیرہ) وہ سب اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کے مستحق بن جاتے ہیں۔

     خلاصہ یہ کہ سودی معاملہ اور سودی لین دین قرآن و حدیث کی رو سے حرام ہے۔ نیز اسلام میں جس طرح سود لینا حرام و ناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام و ناجائز ہے اور احادیثِ  مبارکہ میں دونوں پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، سودی معاملہ دنیا اور آخرت کی تباہی اور بربادی، ذلت اور رسوائی کا سبب ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، اس لیے سودی معاہدہ کرنااور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔ ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ سود بلکہ سود کے شبہ  سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھے۔

سود سے متعلق مزید تفصیلات جاننے کے لیے  حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کے رسالہ ’’مسئلہ سود ‘‘ کا مطالعہ کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200921

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں