بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سود اور سود کے غبار میں مبتلا لوگوں والی حدیث


سوال

اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ آخری زمانہ میں سود سے کوئی بھی نہیں بچ پائے گا اور اگر پائے گا بھی تو کچھ نہ کچھ غبار ان کو لگے گی ۔ تو کیا اس کا مصداق یہی زمانہ ہے اور اگر ہے تو ذرا سمجھائیں کہ وجہ اور سبب کیا ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ حدیث کا مطلب ہے کہ آخری زمانے میں عموماً دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ ایک وہ جو حقیقتاً سود خوری میں مبتلا ہوں اور دوسرے وہ جن پر سود کا غبار یعنی ایسے اثرات  ہوں گے جیسے کوئی شخص مٹی نہ اڑائے لیکن اس کے آس پاس مٹی اڑانے والے کے فعل کی وجہ سے اس مٹی کا غبار اس تک بھی پہنچے گویا کہ یہ لوگ حقیقتاً سود خوری میں اگرچہ مبتلا نہیں ہیں لیکن مجازاً اور بالواسطہ ان کا بھی سود سے تعلق ہوگیا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سودی معاملہ نہیں کر رہا لیکن اس کا گواہ بن رہا ہے یا کاتب بن رہا ہے یا سود خور کا ہدیہ یا ضیافت قبول کر رہا ہے  یا کسی کا مال سود خور کے مال کے ساتھ مل رہا ہے، وغیرہ۔

آج کے زمانے کے متعلق بھی کہا جاسکتا ہے کہ زیادہ تر لوگ ان ہی دو قسموں میں سے ایک قسم کے ہیں۔

فيض القدير  میں ہے:

 (ليأتين) اللام جواب قسم محذوف (على الناس زمان لا يبقى منهم) أي من الناس (أحد إلا أكل الربا) الخالص (فإن لم يأكله أصابه من غباره) أي يحيق به ويصل إليه من أثره بأن يكون موكلا أو متوسطا فيه أو كاتبا أو شاهدا أو معامل المرابي أو من عامل معه و خلط ماله بماله ذكره البيضاوي و قال الطيبي: قوله إلا أكل المستثنى صفة لأحد والمستثنى منه أعم عام الأوصاف نفى جميع الأوصاف إلا الأكل ونحن نرى كثيرا من الناس لم يأكل حقيقة فينبغي أن يجري على عموم المجاز فيشمل الحقيقة والمجاز ولذلك أتبعه بالفاء التفصيلية بقوله فإن لم يأكله حقيقة أكله مجازا وفي رواية من بخاره وهو ما ارتفع من الماء من الغليان كالدخان والماء لا يغلي إلا بنار توقد تحته ولما كان المال المأكول من الربا يصير نارا يوم القيامة يغلي منه دماغ آكله ويخرج منه بخار ناسب جعل البخار من أكل الربا والبخار والغبار إذا ارتفع من الأرض أصاب كل من حضر وإن لم يأكل ووجه النسبة بينهما أن الغبار إذا ارتفع من الأرض أصاب كل من حضر وإن لم يكن هو أثاره كما يصيب البخار إذا انتثر من حضر وإن لم يتسبب فيه وهذا من معجزاته فقل من يسلم في هذا الوقت من أكل الربا الحقيقي فضلا عن غباره

(حرف اللام، ج5، ص346، المكتبة التجارية الكبرى)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402101424

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں