بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے یا ڈالر کی قیمت کے حساب سے قرض دینا


سوال

 فریق اول  ایک بڑی رقم ادھار مانگتاہے ، فریق دوم  ادھار کی رقم سونے کی قیمت پر یا ڈالر کی قیمت پر جو رائج  الوقت ہے دے رہا ہے  کہ جب پیسے واپس کریں تو اس وقت سونے کی قیمت یا ڈالر کی جو قیمت ہوگی اداکرنے ہوں گے قیمت زیادہ ہو یا کم ، کیا یہ جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہر ہ میں قرض کے بارے میں حکم اور ضابطہ یہ ہے کہ جس جنس میں  اور جتنی مقدار قرض لیا جائے تو اسی جنس  اور اتنی ہی مقدار میں قرض واپس کیا جائے ۔لہذا صورت مسئولہ میں اگر قرض   پاکستانی روپے میں لیا  جارہا ہے  تو اس قرض  کی ادائیگی  بھی پاکستانی روپے سے ہوگی اور جتنے روپے قرض لیا ہے اتنے ہی  روپے واپس کرنے ضروری ہوں گے،ڈالر یا سونے کی  قیمت کو بنیاد بنا  کردی گئی اصل قرض رقم سے کم یا زیادہ روپے وصول کرنا  شرعًاجائز  نہیں ہے   ۔

ہاں!  البتہ اگر قرض ڈالر  یا سونے کی صورت میں دیا ہے تو جتنے ڈالر  یا سونا قرض  دیا ہو اتنے ہی  ڈالر یا سونا واپس کرنا ضروری ہوگا، اگرچہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے رقم کم یا زیادہ ہورہی ہو۔

وفي العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:

"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟

(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."

(کتاب البیوع، باب القرض، 1/ 279، الناشر: دار المعرفة)

وفيها أيضا:

"(سئل) فيما إذا استدان زيد من عمرو مبلغا معلوما من المصاري المعلومة العيار على سبيل القرض ثم رخصت المصاري ولم ينقطع مثلها وقد تصرف زيد بمصاري القرض ويريد رد مثلها فهل له ذلك؟

(الجواب) : ‌الديون تقضى بأمثالها."

(کتاب البیوع، باب القرض، 1/ 281، الناشر: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101107

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں