بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک میں رکھے ہوئے سونے پر زکاۃ


سوال

بینک میں رکھے ہوئے سونے پر زکاۃ ہے کیا؟

جواب

سونا چاہے استعمال کے لیے ہو، زیوارت کی شکل میں ہو یا بینک لاکر میں رکھا ہوا ہو،  بہر صورت سونے پر زکاۃ واجب ہے۔ اگر بینک میں رکھا ہوا سونا تنہا نصاب کے برابر ہو (یعنی ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو)یابینک میں رکھا ہوا سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو لیکن دیگر اموال یعنی چاندی،  نقد رقم یا مال تجارت کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تو  سالانہ اس پر زکاۃ لازم ہے، مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد زکاۃ میں نکالاجائےگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200824

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں