بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے پر زکوۃ ہے تو مہنگی گاڑی پر کیوں نہیں؟


سوال

پانچ لاکھ مالیت کے زیر استعمال سونے کے زیورات پر زکوۃ ہے، مگر 10لاکھ مالیت کی زیر استعمال کار پر کیوں نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکات صرف اس مال پر فرض ہے جو عادۃً بڑھتا رہتا ہے، جیسے مالِ تجارت یا مویشی یا سونا چاندی، چوں کہ سونے چاندی کو اسلام نے تجارت کا ذریعہ قرار دیا ہے، خواہ کوئی اس کو زیور بنا کر رکھے یا سونا چاندی کے ٹکڑے بنا کر رکھے، ہر حال میں وہ  تجارت کا مال ہے؛ اسی لیے سونے چاندی پر خواہ وہ کسی صورت  میں ہو زکات فرض ہوتی ہے، اگر نصاب کے برابر یا زیادہ ہے۔

ان تین قسم کے اموال کے علاوہ ذاتی مکان، دکان، گاڑی، برتن، فرنیچر اور دوسرے گھریلو سامان، ملوں اور کارخانوں کی مشینری، جواہرات خواہ کتنی قیمت کے ہوں اگر تجارت کے لیے نہیں تو ان پر زکات فرض نہیں، ہاں اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی فروخت کی نیت سے خریدی جائے اور اس کی قیمت نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو اس پر زکات فرض ہوگی۔

چوں کہ سونا اپنی خلقت کے اعتبار سے تجارت  ہی کا ذریعہ ہے اور اس میں بڑھوتری کی صلاحیت ہوتی ہے، اس لیے اگر یہ نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو اس پر ہر حال میں جب کہ اس پر سال گزر جائے زکات لازم ہے۔ اور گاڑی خواہ کتنی ہی قیمت کی ہو  جب کہ اپنے  استعمال میں ہو تو اس پر زکات لازم نہیں، الا یہ کہ وہ تجارت کے لیے  ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 11):

"(ومنها) كون المال ناميا؛ لأن معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل إلا من المال النامي ولسنا نعني به حقيقة النماء؛ لأن ذلك غير معتبر وإنما نعني به كون المال معدا للاستنماء بالتجارة ...والتجارة سبب لحصول الربح فيقام السبب مقام المسبب... والتجارة في أموال التجارة، إلا أن الإعداد للتجارة في الأثمان المطلقة من الذهب والفضة ثابت بأصل الخلقة؛ لأنها لاتصلح للانتفاع بأعيانها في دفع الحوائج الأصلية فلا حاجة إلى الإعداد من العبد للتجارة بالنية، إذ النية للتعيين وهي متعينة للتجارة بأصل الخلقة فلا حاجة إلى التعيين بالنية فتجب الزكاة فيها، نوى التجارة أو لم ينو أصلا أو نوى النفقة."

الفتاوى الهندية (1/ 172):

"(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 297):

"(واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا."

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 218):

"(قوله: وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحوائجه الأصلية نام ولو تقديرا ) لأنه عليه الصلاة والسلام قدر السبب به وقد جعله المصنف شرطا للوجوب مع قولهم إن سببها ملك مال معد مرصد للنماء والزيادة فاضل عن الحاجة كذا في المحيط."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201337

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں