بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے اور چاندی سے گزشتہ سالوں کی زکوۃ نکالنے میں کون سی قیمت کا اعتبار ہوگا؟


سوال

کیا پانچ سال کی سونے پر دینے والی زکات ان گزرے پانچ سال کی سونے کی قیمت پر دی جائے گی یا موجودہ سونے کی قیمت پر؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مذکورہ سونے سے گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی میں سونے کی موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا، نیز گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنے  کا طریقہ یہ  ہوگا کہ نصاب کے بقدر موجود سونے کی مجموعی قیمت سے  گزشتہ  ہر سال کے بدلے اس کا  ڈھائی فیصد ادا کیا جائے گا، اور اس مقدار کو  اگلے سال کی زکاۃ  نکالتے وقت منہا کیا جائے گا، اسی طرح آگے بھی طریقہ کار اختیار کیا  جائے گا۔

         بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع   میں ہے:

"وأما وجوب الزكاة فمتعلق بالنصاب إذ الواجب جزء من النصاب، واستحقاق جزء من النصاب يوجب النصاب إذ المستحق كالمصروف... وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة، وعند زفر يؤدي زكاة سنتين، ".

(كتاب الزكوة، ج:2، ص:07، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144209201721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں