بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے کے سکوں کے بدلے واپسی زائد رقم لینا


سوال

 ایران میں سونے کے سکے ہیں جن کا نام بہار آزادی سکہ ہے، واضح رہے کہ پورے ملک میں ان سکوں کا وزن ایک جیسا ہے اوران کی  قیمت بھی ایک ہے  اور لوگ اس کی  خرید و فروخت اس طرح کرتے ہیں مثال کے طور پر زید کو ایک لاکھ تومان(ایرنی پیسہ) قرض کی ضرورت ہے اور محمد اسے قرض دینے سے پہلے  یہ مطالبہ  کرتا ہے کہ میں تمہیں ایک لاکھ تومان دوں گا اور اس کے بدلے میں ایک سال بعد تم مجھے دولاکھ تومان دو گے اس کے بعدمحمدسود سے اپنے معاملے کو بچانے کے لئے یہ  کام کرتا ہے   کہ وہ  دو سکہ بہار آزادی خریدتاہے (ہر سکےکی قیمت پچاس ہزار تومان ہے اور  پورے ملک میں اس کی  یہی قیمت ہے ) اور زید کو دیتا ہے کہ تم مجھے ایک سال بعد دو لاکھ تومان دو گے کیا ایسا معاملہ کرنا جائز ہے یا سود ہے ؟  اگر یہ معاملہ سود ہے تو یہ لوگ کیا کریں اس لیے یہ لوگ نہیں جانتےہیں  کہ ان کا کتنا پیسہ بڑھ گیاہے؟

جواب

واضح رہے کہ  سونےکے سکوں  کو بطور قرض دینا جائز ہے،البتہ جتنے  وزن کا سونا قرض میں دیا ہو، واپسی کے وقت اتنے ہی وزن کا  سونا واپس کرنا ضروری ہوگا، واپس لیتے وقت کمی یا بیشی کرنا جائز نہیں ہے، اگر واپسی کا معاملہ پیسوں سے ہوا ہو کہ قرض لینے والا واپسی دیتے وقت اس سونے کے بدلے پیسے دے گا تو واپسی کے وقت   قرض لینے والا اتنے ہی پیسے دے گا جتناواپسی والے دن سونے کی قیمت بن رہی ہو اس میں کمی بیشی کرنا جائز نہیں ہے۔

قرض  کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض لیاجائے اتنی ہی مقدار قرض دار پر واپس کرنالازم ہے، چاہے جتنے عرصے بعد واپسی ہو، قرض میں دی گئی چیز  کی مالیت گھٹنے یا بڑھنے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا ہے، چنانچہ شریعت مطہرہ کا مسلمہ اصول ہے کہ''الدیون تقضیٰ بأمثالها''یعنی قرضوں کی واپسی ان قرضوں کے مثل (برابر) سے ہی ہوگی، اسی لیے اگر قرض کی واپسی میں اضافہ کی شرط لگائی جائے تو وہ عین سود ہوگا۔

صورت مسئولہ میں سونےکے سکوں کو   قرض دیتے وقت واپس زائد رقم لینے کی شرط لگائی جاتی ہے جو کہ جائز نہیں ہےاور یہ معاملہ واضح سودکے زمرے  میں آتا ہے،معاملہ کے جواز کے لئے ضروری ہے کہ جتنے وزن کے سکے بطور قرض کے دئے تھے اتنے ہی وزن کے سکے واپس لئے جائیں۔جن  لوگوں نے اس طرح کا معاملہ کرکے  جو زائد پیسے حاصل کئے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ  اپنے پیسے اسل مالک کوواپس کریں ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فيصح استقراض الدراهم والدنانير، وكذا كل ما يكال أو يوزن أو يعد متقارباً".

(کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی القرض، ج:5، ص:162، ط:سعید) 

وفیہ ایضًا:

"فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزناً لا عدداً، وأما بدون ذلك فهو رباً؛ لأنه مجازفة".

(کتاب البیوع، باب الربا، ج:5، ص:177، ط:سعید)

وفیہ ایضًا:

"(وما غلب فضته وذهبه فضة وذهب)  ... و) كذا (لايصح الاستقراض بها إلا وزناً) كما مر في بابه"

(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:5، ص:265،ط:سعید)

وفیہ ایضًا:

"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه".

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد،ج:5، ص:99، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100433

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں