بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے کا ریٹ کم زیادہ ہونے کی صورت میں زکاۃ کا حکم


سوال

مجھے اس سال زکات کے بارے میں معلومات کرنا ہے، آپ مجھے تفصیل سے زکات کے بارے میں بتائیں ،سونا اور نقد رقم کے بارے میں ،سونا کا ریٹ کبھی زیادہ ہوجاتاہے ، کبھی کم،  تو کس طرح زکات ادا کریں؟

جواب

واضح رہے کہ سونے  کی زکوٰۃ  کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے،صرف سونا ہونے کی صورت میں اس سے کم پر زکاۃ واجب نہیں ہے ؛  لیکن اگر سونےکے ساتھ چاندی، مالِ تجارت یا رقم ہو، خواہ وہ معمولی ہو  ، تو ایسی صورت میں  سونے کے نصاب کا اعتبار نہیں کیا جائے گا،  بلکہ اگر   سونے کو چاندی، رقم یا مالِ تجارت کے ساتھ ملا کر  اس کی مجموعی مالیت  چاندی کے نصاب  یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو ایسی صورت میں زکاۃ واجب ہوگی، سونے،چاندی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ ہونے کے باعث ہر وقت اس کی قیمت میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، لہٰذاسونا یا اس کے زیورات کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت ادائیگی کے دن اس سونے کی جو قیمتِ فروخت ہوگی اس پرقیمت کے حساب سے ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"فأما إذا كان له ‌الصنفان ‌جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا.وعند الشافعي لا يضم أحدهما إلى الآخر بل يعتبر كمال النصاب من كل واحد منهما على حدة."

(کتاب الزکاۃ،فصل مقدارالواجب فی زکاۃ الذھب ،ج:۲،ص:۱۹،دارالکتب العلمیۃ)

در مختار میں ہے :

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح."

(کتاب الزکاۃ،ج:۲،ص:۲۸۶،سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100835

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں