بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

گانے سن کر خوش ہونے والے کے بارے میں حضرت مجدد الفِ ثانیؒ کی طرف سے کفر کا فتوی دینا


سوال

اگر کوئی آدمی گانے سن کر خوش ہو اور لذت محسوس کرے تو کیا اس صورت میں وہ آدمی کافر ہو جاتا ہے؟ تفسیر ذخیرۃ الجنان میں حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ نے شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ :ایسا شخص کافر ہو جاتا ہے ۔

ذخیرۃ الجنان جلد نمبر 11 صفحہ 396 اللہ تعالی کا ارشاد" واستفززمن استطت منهم "کی تفسیر کے تحت اس امر کی وضاحت مطلوب ہے۔

جواب

واضح رہے کہ گانا سننا ناجائز و حرام ہے ،   اور اس کو جائز سمجھ کر سننااور خوش ہونا یا لذت حاصل کرنا کفر  ہے، اور حضور ﷺ نے اس کو کفر قرار دیا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب ذخیرۃ الجنان میں موجود  مذکورہ عبارت کہ" جو شخص گانے سن کر خوش ہووہ کافر ہے، مسلمان نہیں رہتا، نکاح ٹوٹ جاتا ہے"سے مراد ایسا شخص ہےجو گانے اور موسیقی کو حلال سمجھ کر سنے اور خوش ہو، ا وریہ "استحلال الحرام" (حرام چیز کو حلال سمجھ کر انجام دینا)کی قبیل سے ہے، اور بعض علماء نے اس کو کفرانِ نعمت  پر محمول کیا ہےکہ اللہ پاک نے اعضاء جن امور کے لیے دیے تھے ان کے علاوہ میں ان کو صرف کرنا نعمت کی ناشکری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي البزازية ‌استماع صوت ‌الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله - عليه الصلاة والسلام - «‌استماع ‌الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر."

(کتاب الحظرِ و الاباحة، ج: 6، ص: 649، ط: سعید)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وفي فتاوى قاضي خان: أما ‌استماع صوت ‌الملاهي كالضرب بالقضيب ونحو ذلك حرام ومعصية لقوله عليه السلام: " «‌استماع ‌الملاهي معصية، والجلوس عليها فسق، والتلذذ بها من الكفر» " إنما قال ذلك على وجه التشديد وإن سمع بغتة فلا إثم عليه، ويجب عليه أن يجتهد كل الجهد حتى لا يسمع لما روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أدخل أصبعه في أذنيه."

(باب البیان و الشعر، ج: 7، ص: 3025، ط: دار الفکر بیروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501102021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں