بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے کو ادھار بیچنے اور بیع عینہ کا حکم


سوال

 زید ایک تاجر ہے ، اس کو نقد رقم کی ضرورت ہے ، لیکن کوئی اس کو مطلوبہ رقم بطور قرض دینے کے لیے تیار نہیں  ہے، تو خالد نے زید سے کہا، کہ میں قرض تو آپ کو نہیں دے سکتا ،البتہ 20 تولہ سونا آپ کو اس طرح فروخت کرتا ہوں، کہ میں سونا ابھی آپ کو حوالہ کردوں گا ،اور آپ مجھے دو مہینے بعد قیمت ادا کریں ،لیکن فی تولہ کی قیمت، موجودہ بازاری ریٹ سے 5 ہزار روپے زیادہ ہوگی۔

اب زید کہتا ہے کہ اگر میں اس طریقے پر خالد سے سونا خرید لوں ،اور پھر اپنے لیے کسی اور دوکاندار کو موجودہ ریٹ پر فروخت کروں اور نقد رقم حاصل کروں ،

تو کیا یہ میرے لئے جائز ہے یا نہیں ؟ 

آپ حضرات کی خدمت میں درخواست ہے کہ مندرجہ ذیل امور میں ہماری رہنمائی فرمائیں:

1: مذکورہ معاملہ جائز ہے یا نہیں ؟

2: اگر جائز نہیں تو کیوں؟

3: اور یہ کس طرح سود کا حیلہ ہے حالانکہ بظاہر تو یہ سود سے بچنے کا ایک حیلہ ہے ؟

4: یہ صورت "جائز تورّق" کی صورتوں میں داخل ہے یا نہیں ؟اگر نہیں تو کیوں ؟

5: کیا سونے، چاندی اور کرنسیوں کا اس بارے میں ایک ہی حکم ہے یا الگ الگ ؟

جواب

(1تا  4)۔واضح رہے کہ سونا،چاندی کی ادھار خرید و فروخت جائز نہیں،کیوں کہ یہ بیع صرف ہے،جس میں ثمنین پر مجلسِ عقد میں ہی قبضہ کرنا ضروری ہے،ورنہ یہ سود ہوجائے گا،اور سود کی بدترین مثال "ربا النسیئہ" ہے،جس کی احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے۔

نیز قرض پر نفع لینے کی اور سود سے بچنے کی مذکورہ صورت "بیع عینہ" ہے،اور بظاہر یہ سود سے بچنے کا حیلہ ہے،لیکن بیع عینہ اور اس کے سود ہونے کا حکم سونا چاندی کے علاوہ کی خرید و فروخت میں ہے۔جبکہ سونا چاندی کی خرید و فروخت بصورت ادھار سود اور حرام ہے، جو کہ بیع عینہ کی کراہت سے بڑھ کر گناہ ہے۔

(5)۔سونا چاندی ہویا کرنسیاں،سب بیع صرف کے حکم میں ہیں،اس میں ادھار جائز نہیں ۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

’’وعن أبی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم: الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعیر بالشعیر والتمر بالتمر والملح بالملح مثلاً بمثل یداً بید فمن زاد او استزاد فقد أربی ، الآخذ والمعطی فیه سواء.‘‘

(مشکاۃ المصابیح، ج:2، ص:244، ط:مکتبه قدیمی)

سنن الدارقطني میں ہے:

"  ثنا يعقوب بن إبراهيم البزار , نا الحسن بن عرفة , نا داود بن الزبرقان , عن معمر بن راشد , عن أبي إسحاق السبيعي , عن امرأته أنها دخلت على عائشة رضي الله عنها فدخلت معها أم ولد زيد بن أرقم الأنصاري وامرأة أخرى , فقالت أم ولد زيد بن أرقم: يا أم المؤمنين إني بعت غلاما من زيد بن أرقم بثمانمائة درهم نسيئة , وإني ابتعته بستمائة درهم نقدا , فقالت لها عائشة: «بئسما اشتريت وبئسما شريت , إن جهاده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قد بطل إلا أن يتوب»"

( كتاب البيوع، ج:3، ص:478، رقم:3003، ط: مؤسسة الرسالة، بيروت - لبنان)

سنن ابی داؤد میں ہے:

’’عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: إذا تبايعتهم العينة، و أخذتم أذناب البقر، و رضيتم بالزرع، و تركتم الجهاد، سلط الله عليكم الذلة، لا ينزعه حتي ترجعوا إلی دينكم.‘‘

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے کہ جب تک تم بیع عینہ کرتے رہوگے اور جانوروں کی دیکھ بھال میں لگے رہوگے اور زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ دوگے تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔

( أبواب الإجارة، باب في النهي عن العينة، 3/ 274، رقم الحديث: 3462، ط: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

’’باب الصرف۔۔۔۔ (هو) لغۃً: الزیادۃ، وشرعاً (بیع الثمن بالثمن) أی ماخلق للتنمیة ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغیر جنس) کذہب بفضة (ویشترط) عدم التأجیل والخیار و(التماثل) أی التساوی وزناً (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلیة (قبل الإفتراق).‘‘

(در مختار، كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5، ص:257، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(هو بيع بعض الأثمان ببعض) كالذهب والفضة إذا بيع أحدهما بالآخر أي بيع ما من جنس الأثمان بعضها ببعض وإنما فسرناه به ولم نبقه على ظاهره ليدخل فيه بيع المصوغ بالمصوغ أو بالنقد فإن المصوغ بسبب ما اتصل به من الصنعة لم يبق ثمنا صريحا ولهذا يتعين في العقد ومع ذلك بيعه صرف۔۔۔شرائطه فأربعة، الأول قبض البدلين قبل الافتراق بالأبدان."

(قوله: فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أي النقدان بأن بيع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزنا ومن قبض البدلين قبل الافتراق."

(كتاب الصرف، ج:6، ص:209، ط:دارالكتب الاسلامى)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102539

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں