بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے اور معمولی نقدی پر زکوۃ کا حکم


سوال

سونا  سات تولے سے کم ہو اور کچھ نقد رقم ہو تو زکوة  واجب ہو گی؟ اور نقد رقم کی کم سے کم مقدار کتنی ہونی چاہیے؟ اور دوسرا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تو آدھے تولے سے کم ہوتی ہے تو اگر کوئی اپنی خوشی سے کم سونے میں زکوة  دے  جو سونے میں  زکوة کا مطلوبہ  ہدف پورا نہ  ہو تو کیا اسے زکوة دینے کا ثواب ملے گا؟

جواب

اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سے کم مقدار میں سونا ہو اور اس کے ساتھ  ضرورت  سے زائد تھوڑی  نقدی بھی ہو تو ایسے شخص پر  سال پورا ہونے پر  زکات واجب ہو گی، اس صورت میں نقدی کی کم سے کم کی کوئی مقدار متعین نہیں ہے، ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ بنیادی اخراجات  اور واجب الادا قرض اور اخراجات  (مثلًا: ماہانہ راشن، یوٹیلٹی بلز وغیرہ) سے زائد ہو۔

پھر یہ بات بھی  بجا ہے کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت  بعض اوقات آدھا تولہ سونے کے برابر ہوجاتی ہے، اور کبھی اس سے کم و بیش؛ لہذا اگر کسی شخص کی ملکیت میں آدھا تولہ سونا ہو اور اس کے ساتھ کچھ نقد رقم بھی ہو تو اس پر  سالانہ زکات لازم ہوگی۔

لیکن اگر کوئی شخص صاحبِ نصاب نہ ہو، مثلًا: سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو اور اس کے ساتھ ضرورت سے زائد بالکل بھی رقم نہ ہو اور چاندی یا مالِ تجارت بھی نہ ہو، اور اس کے باوجود وہ اپنی خوشی سے مستحقین کو کچھ دے تو  اسے ثواب ملے گا، اصطلاحی اعتبار سے اسے زکات نہیں کہا جائے گا، بلکہ صدقہ کہا جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ وہ صرف اس وجہ سے کسی کو بڑے اجر سے محروم نہیں کریں گے کہ وہ صاحبِ نصاب نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200495

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں