بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سونے اور چاندی کے علاوہ دھات والی انگوٹھی کا حکم


سوال

میرے پاس کچھ انگوٹھیاں ہیں جو سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ یہ پہننا جائز نہیں۔ ان انگوٹھیوں کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب

مردوں کے لیے صرف چاندی کی ایک خاص مقدار (ساڑھے چار ماشے سے کم) کی انگوٹھی  کا پہننا جائز ہے، اس کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی  کا استعمال جائز نہیں ہے۔ عورتوں کے لیے سونے چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے،  اور ان کے لیے انگوٹھی میں سونے یا چاندی کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں ہے؛  لہذا سائل کے پاس جو سونے اور چاندی کے علاوہ دھات کی انگوٹھیاں ہیں اسے ڈھال کر  پہننے کے علاوہ کسی اور کام میں استعمال کر لے، یا ایسے شخص پر فروخت کر دے  جس کا مقصد  اسے ڈھال کر پہننے کے علاوہ کسی صورت میں استعمال کرنا ہو۔ ورنہ سونا چاندی کے علاوہ دھات کی انگوٹھی کی بیع کراہت سے خالی نہ ہو گی۔  

نیز عورتوں کے لیے بھی سونے اور چاندی کے علاوہ دھات کی انگوٹھی کا پہننا جائز نہیں ہے، ہاں اسے ڈھلواکر انگوٹھی کے علاوہ دیگر زیور بناکر خواتین استعمال کرسکتی ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201526

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں