بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے کی زکات ادا کرتے وقت کس قیمت کا اعتبار کیا جائے گا؟


سوال

زکات کا حساب کرتے وقت سونے کی قیمت 21 کیرٹ کے حساب سے ہوگئی یا 22 کیرٹ کے حساب سے؟  کیوں کہ بعض دکانداروں سے سنا تھا کہ جو زیورات ہم بنا کر فروخت کرتے ہیں وہ 21 کیرٹ  کے ہوتے ہیں لیکن ہم 22 کیرٹ  کے حساب سے دیتے ہیں ۔

جواب

واضح رہے کہ سونا  کی زکات اگر  نقدی کی صورت میں دی جائے تو اس کی قیمتِ فروخت کا اعتبار کیا جائے گا، یعنی جس قیمت پر صراف خریدے گا اسی قیمت کے حساب سے زکوۃ واجب ہوگی،لہذا صورتِ مسئولہ میں  21 کیرٹ کے حساب سے فروخت کیے گئے زیورات کی رقم پر زکوۃ واجب ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (والمعتبر وزنهما أداءً ووجوباً) لا قيمتهما.

 (قوله: والمعتبر وزنهما أداءً) أي من حيث الأداء، يعني يعتبر أن يكون المؤدى قدر الواجب وزناً عند الإمام والثاني ...... وأجمعوا أنه لو أدى من خلاف جنسه اعتبرت القيمة."

( ج:2،  ص:297، ط:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’سونا اور چاندی دونوں وزنی چیز ہیں، ان میں نصاب اور ادائے زکاۃ میں ہر دو کے لیے وزن کا اعتبار ہوگا،قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا ۔۔۔  تو ادا کرتے وقت جو قیمت قدرِ زکاۃ کی ہو اس کی کوئی  اور شے دے دی جائے۔۔۔‘‘الخ

(ج :9، ص:379، ط:فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں