بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سونے کی اشیاء پر زکات وزن کے اعتبار سے لازم ہوگی یا قیمتِ فروخت کے اعتبار سے؟


سوال

ایک سونار کے پاس مختلف سونے  کے سامان ہیں ، جن میں سے بعض  کے ڈیزائن  پرانے ہیں اور بعض کے ڈیزائن نئے ہیں، جن کے ڈیزائن پرانے ہیں ان کا وزن تو اگرچہ زیادہ ہے لیکن چوں کہ ڈیزائن پرانے ہیں اس لیے وہ مارکیٹ  ریٹ کے اعتبار سے کم قیمت میں فروخت ہوتے ہیں ، اور جن کے ڈیزائن نئے ہیں اگرچہ ان کا وزن تو  زیادہ نہیں ہے  لیکن چوں کہ ان کے ڈیزائن نئے ہیں اس لیے  وہ مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے  زیادہ قیمت میں فروخت ہوتے ہیں ۔

اب اس تاجر پر زکوۃ کی ادائیگی کس اعتبار سے لازم ہوگی؟ قیمتِ فروخت کے اعتبار سے؟ یا  ان اشیاء کے وزن کے اعتبار سے؟ اگر زکوۃ وزن کے اعتبار سے لازم ہوگی،تو پہلی صورت (ڈیزائن پرانے اور وزن زیادہ) میں نقصان ہے، اور دوسری صورت (ڈیزائن نئے اور وزن کم )میں نفع ہے،کیوں کہ ڈیزائن نئے ہونے کی وجہ سے  وہ چیز  دو لاکھ دس ہزار کے بجاۓ ڈھائی لاکھ میں فروخت ہوتی ہے۔

جواب

سونا اور چاندی  دونوں چوں کہ  وزنی چیزیں ہیں  اس لیے  دونوں میں   زکات اصلاً وزن کے اعتبار سے ہی لازم ہوتی ہے،لہذا اگر سونار کے پاس سونے کا وزن نصاب کے بقدر  ساڑھے  سات تولہ موجود ہے تو اس پر چالیسویں حصے کے اعتبار سے  زکات   واجب ہوگی، البتہ اگر  سونے چاندی کی زکات  سونے چاندی کے بجاۓ رقم کی صورت میں ادا کرنا چاہے  تو  اس کا طریقہ یہ ہے کہ سونے کی اشیاء  میں جس کیریٹ کا سونا موجود ہے،  زکات نکالنے کے دن بازار میں اس قسم  کے سونے کی جو قیمتِ  فروخت (مارکیٹ ویلیو)ہے وہ معلوم کرکےجتنے وزن پر زکات لازم ہوئی ہے(مثلا:ساڑھے سات تولہ میں سے ایک تہائی تولہ )  اتنے وزن کے بقدر  بازار میں سونے کی  جتنی قیمت ِ فروخت  ہے ،اس کا چالیسواں  حصہ ( ڈھائی فیصد) زکاۃ میں  ادا کردیا جاۓ، اس سے بھی زکوۃ کا فریضہ ادا ہوجاۓ گا،  ( ڈیزائن کے پرانے اور نئے ہونے سے   حکم میں کچھ فرق نہیں پڑتا)خلاصہ یہ ہے کہ    زکوۃ جس طرح   اصل مال کی ادائیگی سے  ادا ہوجاتی ہے بالکل اسی طرح اس کے بقدر رقم کی ادائیگی سے بھی ادا ہوجاتی ہے ،اور رقم کی صورت میں زکوۃ ادا کرنا  فقراء کے حق میں زیادہ مفید ہے۔  

سنن ابو داؤد میں ہے:

"عن علي رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم ببعض أول هذا الحديث، قال: «فإذا كانت لك مائتا درهم، وحال عليها الحول، ففيها خمسة دراهم، وليس عليك شيء - يعني - ‌في ‌الذهب حتى يكون لك عشرون دينارا، فإذا كان لك عشرون دينارا، وحال عليها الحول، ففيها نصف دينار، فما زاد، فبحساب ذلك»."

(كتاب الزكوة،باب في زكوة السائمة،233/1،ط:رحمانیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌نصاب ‌الذهب عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه."

(كتاب الزكوة، باب زكوة المال،295/2،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

" وجاز دفع القیمة في زكاة."

وفیہ ایضاً:

"أما إذا أدى من خلاف جنسه فالقيمة معتبرة اتفاقا."

(کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ الغنم،385،86/3،ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

‌"وإنما ‌له ‌ولاية ‌النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا."

(كتاب الزكوة، فصل صفة الواجب في أموال التجارۃ،111/2، دارالکتب العمیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100063

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں