بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سونے کا پانی چڑھی ہوئی انگوٹھی پہننے کا حکم


سوال

عورتوں کے لیے سونے کا پانی چڑھی ہوئی انگوٹھی (gold plated ring) پہننے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ایسی انگوٹھی پر زکات واجب ہے؟

جواب

(۱) سونے کا پانی چڑھی ہوئی انگوٹھی پہننا عورتوں کے لیے جائز ہے، بشرطیکہ  وہ سونے چاندی کے علاوہ کسی دھات کی انگوٹھی نہ ہو، اور مرد کے لیے سونے کا پانی چڑھی چاندی کی انگوٹھی (بشرطیکہ ساڑھے چار ماشہ سے کم کم ہو) پہننا جائز ہے، البتہ چاندی کے علاوہ انگوٹھی (چاہے سونے کا پانی چڑھا ہوا ہو یا نہ ہو) مرد کے لیے پہننا ناجائز ہے۔

(۲)  سونے اور چاندی کے علاوہ کسی دوسری دھات کی ایسی انگوٹھی جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا ہو اس پر زکات واجب نہیں ہوتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 344):

"و الخلاف في المفضض أما المطلي فلا بأس به بالإجماع بلا فرق بين لجام و ركاب وغيرهما؛ لأن الطلاء مستهلك لايخلص فلا عبرة للونه، عيني وغيره.

(قوله: و الخلاف في المفضض) أراد به ما فيه قطعة فضة فيشمل المضبب، و الأظهر عبارة العيني وغيره، وهي: وهذا الاختلاف فيما يخلص، و أما التمويه الذي لايخلص فلا بأس به بالإجماع؛ لأنه مستهلك فلا عبرة ببقائه لونًا اهـ."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں