بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سونا موجود ہونے کی صورت میں حج کا حکم


سوال

اگر کسی عورت کے پاس اتنا سونا ہو کہ اگر وہ اس کو بیچےتو حج کے اخراجات پورے ہو جائیں،  تو کیا اس سونے کی وجہ سے حج فرض ہو جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کے پاس اگر ضرورت کے خرچ سے زائد اتنا سونا ہو جو حج کے تمام اخراجات (حج پر جانے سے واپس پہنچنے تک) کے لیے کافی ہو، تو اس سونے کی وجہ سے اس پر حج فرض ہوجائے گا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر خاتون کے پاس ضرورت سے زائد  اتنا سونا ہے جو اس کے حج کے تمام تر اخراجات پورے کرے تو اس خاتون پر حج فرض ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان صاحب ‌ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج".

(كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، ج:1، ص:218، ط:دار الفکر بیروت)

وفیہ ایضا:

"وتفسير ‌ملك ‌الزاد والراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، وهو ما سوى مسكنه ولبسه وخدمه، وأثاث بيته قدر ما يبلغه إلى مكة ذاهبا وجائيا راكبا لا ماشيا وسوى ما يقضي به ديونه ويمسك لنفقة عياله، ومرمة مسكنه ونحوه إلى وقت انصرافه".

(كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، ج:1، ص:216، ط:دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102507

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں