بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سونا چاندی وغیرہ پر زکات کا حکم


سوال

ایک تولہ سونا، 10تولہ چاندی ،50ہزار بانڈ ہیں  اس کے علاوہ وسائل نہیں ہیں سیلری پرسن ہوں،  قرض بھی ہے،  کرائے پر  رہتا ہوں زکاۃ ہو گی یا نہیں؟زکاۃ سونے کے نصاب پرہوگی یا چاندی کے؟

جواب

سونے کی زکات کا نصاب ساڑھے سات تولہ اس وقت ہے جب کہ سونے کے ساتھ کوئی اور قابلِ زکات مال (چاندی، رقم، مالِ تجارت) موجود نہ ہو، لہٰذا اگر کسی کے پاس نصاب سے کم صرف  سونا موجود ہو اورنقد رقم، مالِ تجارت یا چاندی کچھ بھی موجود نہ ہو تو اس پر زکات واجب نہیں ہوگی، لیکن اگر سونے کے ساتھ  کوئی اور قابلِ زکات مال (مثلاً نقدی) موجود ہو، تو پھر صرف سونے کے نصاب کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ ایسی صورت میں چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، لہٰذا اگر سونے اور دوسرے قابلِ زکات مال کو ملا کر مجموعی قیمت ساڑے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہوجائے تو اس پر زکات ہوگی۔

ایک سے زیادہ نوعیت کا مال زکوۃ جمع ہونے کی صورت میں چاندی کے نصاب کا اعتبار اس لیے کیا گیا کہ زکات کے وجوب میں فقراء کی حاجت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جس میں فقراء کا فائدہ ہو فقہاءِ کرام نے اس کو اختیار کیا ہے، اور موجودہ دور میں چاندی کا نصاب کم ہے، لہٰذا زکات واجب ہونے کی صورت میں فقراء کا فائدہ ہوگا،  باقی قرض کی رقم کو زکات کے نصاب سے منہا کیا جائے گا۔

اس تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس  سونے کے ساتھ کچھ چاندی اور نقدی وغیرہ بھی ہے تو  سونے ، چاندی اور اس نقدی وغیرہ کی مجموعی قیمت لگائی جائے گی، اور اس مجموعی قیمت میں سے واجب الادا قرضہ کو منہا کیا جائے گا، قرض منہا کرنے کے بعد اگر آپ کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی  کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ رقم بچتی ہے تو اس کا ڈھائی فی صد بطورِ زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

" فأما إذا كان له الصنفان جميعاً فإن لم يكن كل واحد منهما نصاباً بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم، فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا.... (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة ؛ ولأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية، فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد ؛ ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال.
وأما عند الاختلاف فيختلف الواجب وإذا اتحد المالان معنىً فلا يعتبر اختلاف الصورة كعروض التجارة، ولهذا يكمل نصاب كل واحد منهما بعروض التجارة ولايعتبر اختلاف الصورة، كما إذا كان له أقل من عشرين مثقالاً وأقل من مائتي درهم وله عروض للتجارة ونقد البلد في الدراهم والدنانير سواء فإن شاء كمل به نصاب الذهب وإن شاء كمل به نصاب الفضة، وصار كالسود مع البيض، بخلاف السوائم؛ لأن الحكم هناك متعلق بالصورة والمعنى وهما مختلفان صورة ومعنى فتعذر تكميل نصاب أحدهما بالآخر".

(جلد۲، ص:۱۹، ط: دار الكتب العلمية)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں