بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لینا اور اس کا انکار کرنا


سوال

میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، مذہبی اور اپنی ذاتی ضروریات کے لیے بھی،  میں نے اپنی بیوی کو اس بارے میں بتایا اور اجازت طلب کی تو اس نے انکار کر دیا اور خلع طلب کرنے کی دھمکی دی یہ کہتے ہوئے کہ وہ بچوں کو بھی اپنے پاس رکھےگی۔ اگر میں اس خواہش کو چھوڑ دوں تو میرا گناہ میں مبتلا ہوجانے کا خوف باقی رہے گا، اور میں اس خوف پر بہت سالوں سے کام کررہا ہوں، مگر مجھے اب ڈر ہے کہ اس میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اگر خدا  نہ کرے میں کسی گناہ میں مبتلا ہوا تو اس  کے بھی حصہ میں گناہ آۓ گا، اس پر اس کا ردعمل یہ تھا کہ اس گناہ کی صرف ذمہ داری آپ کی ہوگی میری نہیں، اور اگر آپ نے دوسری شادی کی تو میں خلع لے لونگی، اور ان کی کسی جاننے والی نے کہا ہے کہ تم خلع لے سکتی ہو، تمہیں کوئی گناہ نہیں ملےگا، کیوں کہ جب تمہیں اپنے شوہر سے اسکی دوسری شادی کی وجہ سے محبت ہی نہیں رہےگی تو گناہ کیسا، جب کہ میں دونوں کے درمیان انصاف بھی کروں گا، اور دونوں کے حقوق کا بھی خیال رکھوں گا ، مگر وہ سننے سمجھنے کو تیار نہیں ہیں، اور جب کہ وہ دین دار خاتون ہے، ایک طرف بولتی بھی ہے کہ معاشرے کی ضرورت ہے ،اور ساتھ بولتی بھی ہے کہ  آپ نے کی تو میں خلع لےلوں گی۔

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں مرد  کو بوقت ضرورت  بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے،جب کہ وہ ان کے درمیان  انصاف کر سکے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا(النساء:3)

"ترجمہ: اور  اگر  تم کواس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو  اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو  دو  دو عورتوں  سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔" ( بیان القرآن )

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کو ایک سے زائد چار تک شادیاں کرنے کی اجازت اس صورت میں ہے جب کہ وہ انصاف کر سکے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دوسری شادی کے لیے جسمانی اور مالی طاقت رکھتا ہو اور اس میں بیویوں کے درمیان برابری کرنے کی اہلیت ہو، لہذا اگر کسی شخص میں جسمانی یا مالی طاقت نہیں یا اسے خوف ہے کہ وہ دوسری شادی کے بعد برابری نہ کرسکے گا تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں سائل  اگر مالی طاقت اور وسعت کے ساتھ ساتھ جسمانی طاقت بھی رکھتا ہے اور دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے حقوق خوش اسلوبی سے برابری کے ساتھ بھی ادا کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں سائل کے لیے دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے، اس میں اگرچہ پہلی بیوی سے اجازت لینا شرعاً ضروری  تو نہیں ہے، تاہم سائل اگر دوسری شادی سے پہلے اپنی اہلیہ کو کسی بھی طرح راضی کرلے تو بہتر ہے، تاکہ مستقبل میں ذہنی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکے اور دوسری شادی کامقصد پوری طرح سے حاصل ہو ۔

باقی خلع شوہر کی رضامندی اور اس کے قبول کرنے پر  موقوف ہوتا ہے، اگر شوہر خلع  قبول نہ کرے تو یک طرفہ  خلع شرعاً معتبر نہیں ہوتا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر."

(كتاب النكاح، ج:3، ص:48، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك، والامتناع أولى، ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية."

 (كتاب النكاح، الباب الحادي عشر في القسم، ج:1، ص:341، ط:رشیدیة)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وأما قوله تعالى: {مثنى وثلاث ورباع} فإنه إباحة للثنتين إن شاء وللثلاث إن شاء وللرباع إن شاء، على أنه مخير في أن يجمع في هذه الأعداد من شاء; قال: فإن خاف أن لا يعدل اقتصر من الأربع على الثلاث، فإن خاف أن لا يعدل اقتصر من الثلاث على الاثنتين، فإن خاف أن لا يعدل بينهما اقتصر على الواحدة."

(سورة اآل عمران، مدخل، ج:2، ص:69، ط: دار الكتب العلمية)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"عن أبي هريرة عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «إذا كانت ‌عند ‌الرجل ‌امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي.

(امرأتان) : أي: مثلا (فلم يعدل فيهما جاء يوم القيامة وشقه) : أي: أحد جنبيه وطرفه (ساقط) : قال الطيبي: أي نصفه مائل، قيل: بحيث يراه أهل العرصات، ليكون هذا زيادة له في التعذيب، وهذا الحكم غير مقصور على امرأتين فإنه لو كانت ثلاث أو أربع كان السقوط ثابتا."

(كتاب النكاح، باب القسم، ج:5، ص:2115، رقم:3236، ط:دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(، ومكروها لخوف الجور) فإن تيقنه حرم ذلك.(قوله: ومكروها) أي تحريما بحر.(قوله: فإن تيقنه) أي تيقن الجور حرم؛ لأن النكاح إنما شرع لمصلحة تحصين النفس، وتحصيل الثواب، وبالجور يأثم ويرتكب المحرمات فتنعدم المصالح لرجحان هذه المفاسد بحر وترك الشارح قسما سادسا ذكره في البحر عن المجتبى وهو الإباحة إن خاف العجز عن الإيفاء بموجبه. اهـ. أي خوفا غير راجح، وإلا كان مكروها تحريما؛ لأن عدم الجور من مواجبه."

(كتاب النكاح، ج:3، ص:7، ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے :

"فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية: لايتم الخلع ما لم يقبل بعده."

(‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب الخلع، ج: 3، ص: 440، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول، لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول."

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:3، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502101719

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں