بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کسٹمر کی جانب سے جمع کروائی جانے والی سودی رقم منتقل کرنا


سوال

ہمارے پاس دکان پرلوگ کشف فاؤنڈیشن لون پاس بک کی قسطیں جمع کروانے آتے ہیں ، جب کہ کشف فاؤنڈیشن لون پاس بک سودی قرضہ کی رقم ہوتی ہے، جو لوگ سود پر رقم لیتے ہیں تو وہی سود کی رقم واپس کرنے آتے ہیں، اب ہم ان کی قسطوں کی رقم وصول کر کے آن لائن پے کر دیتے ہیں جاز کیش ،ایزی پیسہ یا ایچ بی ایل سے ۔

کیا اس طرح سود کی رقم واپس بھر کر دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ افراد سود پر قرض لی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے آتے ہیں اور ساتھ صراحت کرتے ہیں کہ یہ رقم قرض مع سود کی ہے اور یہ جمع کرنی ہے، تو اس صورت میں مذکورہ رقم کا جمع کرنا درست نہیں ہے، یہ سودی  معاملےکی لکھت پڑھت ہے اور سودی معاملے میں کسی بھی طرح کا تعان کرنا جائز نہیں ہے۔

 قرآنِ مجید  میں سودی لین دین کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ اعلان جنگ قرار دیاگیا ہے۔قرآنِ کریم میں ہے:

{یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه}

ترجمہ:…اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو ، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے۔

[البقرۃ:۲۷۸،۲۷۹-بیان القرآن]

"عن جابر قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء".

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔

(الصحيح لمسلم ، با ب لعن آکل الربا، ومؤکله،ج:2،ص:27،ط:قدیمی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100713

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں