بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سودی قرضوں کی لین دین کرنے والی ایپ پر گیم کھیل کر منافع حاصل کرنے کا حکم


سوال

ایک ایپ ہے جس کا نام ہے "زندگی ایپ"،اس ایپ کے اندر ایک طشتری سی بنی ہوئی ہوتی  ہے جس کے اندر 2,5,10,30 کا آپشن ہے ،جس کو گھمانے کے بعد جس آپشن پر طشتری رُکے گی ،اتنے پیسے اکاؤنٹ میں چلے جائیں گے، اور اس پر کوئی سرمایہ کاری بھی نہیں ہوتی ہے، البتہ اکاؤنٹ میں کم از کم ایک روپیہ ہونا ضروری ہے تبھی یہ طشتری کام کرتی ہے، لیکن ایک روپیہ کی کٹوتی بھی نہیں ہوتی یعنی وہ اکاؤنٹ میں ہی رہتا ہے، بس ایپ اور انٹرنیٹ استعمال ہوتا ہے جس کے بعد یہ گیم نما عمل سے انکم یعنی منافع کا حصول ہوتا ہے، اور کبھی  try again (دوبارہ آزمائیں ) کے آپشن پررکتی ہے ،جس سے انکم نہیں ہوتی اور یہ عمل دن میں ایک دفعہ کیا جاسکتا ہے، لہذا مذکورہ ایپ سے پیسے کمانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زندگی ایپ میں مذکورہ گیم سے حاصل ہونے والا منافع سودہے اور سود  کی ممانعت قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے، اسی وجہ سے اس کو کھیل کر کمائی حاصل کرناناجائز و حرام ہے، لہذا اس گیم اور مذکورہ ایپ سے مکمل اجتناب کرے؛ کیوں کہ ''زندگی ایپ'' نامی ایپ  بینک کے تحت کام کرتی ہے ، جو کہ بنیادی طور پر بذریعہ موبائل سودی قرضوں کی لین دین کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو کہ شرعاً حرام ہے۔

حدیث شریف  میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آ كل ‌الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء."

(مشكاة المصابيح ،باب الربوا، ص: 243، ط: قدیمی)

ترجمہ:" حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ کو لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ: یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔"

فتاویٰ شامی (الدر المختار و رد المحتار) میں ہے:

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

(قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه".

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولیة، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:162، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144411100666

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں