بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی صورت میں سودی قرضہ کے لین دین کی گنجائش ہے؟


سوال

بقائے  حیات  اور  نجی  ضروریات کے  لیے سودی لین دین کے جواز  کی  کون سی صورتیں ہو سکتی ہیں ؟

جواب

سودی قرضہ کا لین دین  حرام ہے، اور حدیث شریف میں سود لینے اور دینے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے، سود کی شرط پر کسی کو قرضہ دینے کی گنجائش تو کسی بھی صورت میں نہیں ہے،البتہ   سودی قرض لینے کی گنجائش صرف اسی وقت ہوسکتی ہے جب  اتنے اضطراری حالات پیدا ہوجائیں کہ سودی قرض لیے بغیر زندگی گزارنا ہی مشکل ہو ۔   جب تک اس درجہ کی اضطراری حالت نہ ہو اس وقت تک سودی قرضہ لینے کی گنجائش نہیں ہوگی۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»".

(صحیح مسلم، باب لعن آکل الربوٰ و موکلہ، ج:۳ ؍ ۱۲۱۹ ، ط:داراحیاءالتراث العربی)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 137):

"وفي القنية من الكراهية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح اهـ".

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 78):

"السادسة: الحاجة تنزل منزلة الضرورة، عامةً كانت أو خاصةً ...وفي القنية والبغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتهى)".

کفایت المفتی میں ہے:

"سود پر روپیہ قرض لینا جائز نہیں الا یہ کہ اضطراری حالت ہوجائے۔  محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ،دہلی۔"

(کفایت المفتی، کتاب الربوٰ، ج:۸ ؍ ۱۰۶ )

فتاوی محمودیہ (ج:۱۶ ؍ ۳۰۲ )  میں ہے:

’’سود لینا اور سود  دینا حرام ہے، اگر گزارا  کی کوئی صورت  نہ ہو تو محتاج کے لیے بقدرِ ضرورت سودی قرض لینے کی گنجائش ہے۔‘‘

فتاوی محمودیہ (ج:۱۶ ؍ ۳۰۵ ) میں ہے:

’’سود دینا حرام ہے، ایسے شخص پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے، حرام کا ارتکاب اضطرار کی حالت میں معاف ہے، پس اگر جان کا قوی خطرہ ہے یا عزت کا قوی خطرہ ہے، نیز اور کوئی صورت اس سے بچنے کی نہیں، مثلا: جائے داد فروخت ہوسکتی ہے، نہ روپیہ بغیر سود کے مل سکتا ہے تو ایسی حالت میں زید شرعاً معذور ہے۔ اور اگر ایسی حالت نہیں، بلکہ کسی اور دنیوی کاروبار کے لیے ضرورت ہے یا روپیہ بغیر سود کے مل سکتا ہے یا جائیداد فروخت ہوسکتی ہے تو پھر سود پر قرضہ لینا جائز نہیں، کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200333

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں