بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض سے بچنے کے لیے سونا ادھار کے طور پر دینے کا حکم


سوال

ہم لوگ جس ملک میں رہتے ہیں یعنی نیپال میں ، اس کے اندر کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جس سے پیسے کے معاملات کو اسلامی طریقے کے مطابق انجام دیاجائے اوراپنے پیسے کو حلال طریقے سے محفوظ کر سکیں اور جو کمائی حاصل ہو حلال ہو، ایک انویسمنٹ کمپنی اگر نیچے دیے گئے طریقہ سے کام کرتی ہے تو کیا حلال ہے؟ یا اس میں کوئی تبدیلی کرکے کاروبار کو حلال کیا جا سکتاہے؟ اس بات سے کمپنی کا  اصل مقصد مسلمانوں کو ملک نیپال میں سودی معاملات سے بچانا ہے۔

1۔ کمپنی  سودی قرض کی بجائے قرض کی رقم کے برابر سونا دیکر مارکیٹ کے ریٹ میں بڑھا کر قسط پر ادھار دے گی اور ساتھ میں ہماراہی دوسرا کاؤنٹر ہوگا جومارکیٹ ریٹ پر سونا خریدے گا،   چاہے تو قرض خواہ سونا یہیں بیچے یا باہر جاکر کسی اور سنار کو بیچے۔

2۔ اگر قرض خواہ نے سونے کی متعین کردہ قیمت  چھ ماہ کے اندر لوٹادیا تو ہم سونے کی قیمت دس فیصد بڑھا کر لیں گے، اگر ایک سال کے اندر   قسطیں لوٹائے گا تو بیس فیصد قیمت برھاکر کمپنی اس سے نفع لے گی، اور اگر ایک سال سے زائد عرصہ میں  قسطیں لوٹائے گا توکمپنی  پچیس فیصد قیمت بڑھاکرنفع لے گی، مثلاً کسی قرض خواہ کو کمپنی نقد رقم دینے کے بجائے ایک تولہ سونا دے گی، جس کا مارکیٹ ریٹ مثلاً ایک لاکھ روپے ہے، اگر قرض خواہ نے تین ماہ میں  قسطیں ادا کی تو اسے ایک لاکھ پانچ ہزار روپے دینا پڑے گا، اگر چھ ماہ میں قسطیں ادا کرے گا تو ایک لاکھ دس ہزار روپے دینا ہوگا، اور اگر نو ماہ میں قسطیں ادا کرے گا تو  اسے ایک لاکھ پندرہ ہزار  روپے دینا ہوگا، اسی طرح قسطوں کی ادائیگی مین جتنی تاخیر ہوگی اتنے ہی سونے کا ریٹ بڑھادیاجائے گا۔

4۔ایک صورت یہ ہے کہ ایک تولہ سونا جس کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے، ایک سال کے ادھار میں ایک لاکھ بیس ہزار روپے متعین کیا جائے، اگر ایک سال کے اندر ادا کردے تو بہتر، ورنہ ایک سال سے مزید تاخیر کرنے کی صورت میں جرمانہ لگایا جائے گا، تو اب  یہ جرمانہ کس طرح لگایاجائے؟

5۔اگر متعینہ مدت سے پہلے مقروض پیسہ واپس کردے تو اس کے لیے کچھ رقم واپس کرنا کیسا ہے؟

6۔ کیا کمپنی سروس چارجز لے سکتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ کمپنی کا اسٹاف مقروض کے گھریا دکان  یومیہ یا ماہانہ قسط وصول کرنے جائے گا تو اس کے چارجز کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کو شریعت مطہرہ نے  تجارتی معاہدہ قرار دینے کے بجائے ایک ہمدردی کا معاہدہ قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قرض کو نفع کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ اس پر آخرت میں ثواب کی امید کی جا سکتی ہے، لہذا وہ تمام طریقے جس میں قرض کو نفع کمانے کا ذریعہ بنایا گیا ہے، وہ شرعا درست نہیں ہے، اور کرنسی نوٹ اور مروجہ سکے سونا چاندی کی طرح ثمن ہے،کرنسی نوٹ اور مروجہ سکے سوناچاندی کی طرح ثمن کس طرح ہے؟ اس سلسلے میں  جواہر الفتاوی (جلد نمبر1، صفحہ نمبر 416 تا 429، ط:اسلامی کتب خانہ)میں مفتی عبدالسلام رحمہ کا مقالہ  بعنوان "کرنسی کی شرعی حیثیت"  اور فتاوی بینات (ج:4، ص:100 تا 116، ط:بینات) میں بعنوان "نوٹ کی شرعی حیثیت اور اس کے متعلق شرعی احکام" کا ملاحظہ کیاجائے،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ  موجودہ کرنسی اپنی مستقل حیثیت ہونے کی وجہ سے باقاعدہ سونے  چاندی کی طرح ثمن (زراصطلاحی)  ہے، اور جب ثمن کا تبادلہ ثمن سے ہو تو یہ بیعِ صرف کہلاتاہے، اور  بیع صرف میں مجلسِ عقد میں ہی جانبین سے قبضہ ضروری ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں كسي اداره يا کمپنی كا سودی قرض سے بچنے کے لیے نقد رقم ادھار دینے کی بجائے سونے کی قیمت بڑھاکر سونا ادھار کے طور پر دینا جائز نہیں ہے، بلکہ سوناچاندی کے خرید وفروخت کے وقت ہاتھ درہاتھ / نقد معاملہ کرناضروری ہے، جب سونا ادھار بیچنا جائز نہیں ہے تو سوال میں ذکرکردہ تمام صورتیں بھی جائز نہیں ہیں، لهٰذا اس سے بچنالازم ہے۔

باقی اگر کمپنی کو سرمایہ کاری کرنی ہے تو وہ شرعی دائرہ میں رہ کر مضاربت یاشراکت داری کی بنیاد پر تجارت کرے،  مضاربت یا شراکت سودی قرض سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ بہترین  سرمایہ کاری بھی ہے، بشرطیکہ شرعی احکامات کی پاسداری کی جائے۔

فتاوی مفتی محمود میں ہے:

"سوال:کیا فرماتے ہیں علماءدین متین کہ آج مثلاً سونے کا حاضر بھاؤ 600  روپیہ فی تولہ ہے، ایک سنار ہم سے 10 تولے سونا مانگتاہےایک ماہ کے ادھارپر، ہم اس سے کہتے ہیں کہ میں تو 640 روپے فی تولہ دوں گا، وہ کہتاہے کہ دے دو، رقم ایک ماہ میں ادا کردوں گا، ہم اس کو سونا دیتے ہیں، تو عرض یہ ہے کہ آج کے بھاؤ سے ہمیں  10 تولے سونے میں 400 روپے بچت ہوتی ہے، کیا یہ ہمارے لیے جائز ہےیا نہیں؟"

جواب:"یہ تو بیعِ صرف ہے، اس میں ادھار جائز نہیں"۔فقط واللہ اعلم

بندہ محمداسحاق، نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان

"بیعِ سابق صحیح نہیں ہے، فاسد ہے، اس میں جو نفع  ہواہےاسے خیرات کردیاجائے"۔فقط واللہ اعلم

الجواب صحیح، محمدعبداللہ

(ج:8، ص:450، ط:جمعیت پبلیکیسنز لاہور)

اور آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

سوال:"اگر کوئی شخص سونا یا چاندی گھر والوں کو پسند کرانے کے لیےلاتاہے اور پھر بعد میں دوسرے دن یا کچھ عرصہ کے بعد اس کی رقم بیچنے والے کو دیتاہے تو یہ خرید وفروخت درست ہے یانہیں؟اگر درست نہیں ہے تو کون سی صورت درست ہے؟ کیونکہ گھر والوں کو دکھائے بغیر یہ چیز خریدی نہیں جاتی ہے؟"

جواب:"گھر والوں کو دکھانا جائز ہے، لیکن جب خریدنا ہو تو دونوں طرف سے نقد معاملہ کیا جائے، ادھار نہ کیا جائے، اس لیے گھروالوں کو دکھانے کے لیے جو چیز لے گیا تھا اس کو دکان دار کے پاس واپس لے آئے،  اس کے نقد دام  ادا کرکے وہ چیز لے جائے"۔

(ج:7، ص:58، ط:لدھیانوی)

درر لحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"المادة: (1339)۔(المسكوكات النحاسية الرائجة معدودة عرفاّ من النقود).

'لأن المسكوكات النحاسية هي أثمان اصطلاحاّ  فتأخذ حكم النقود   فما لم يحصل اصطلاح خلافه فتعد و تصلح أن تكون رأس مال للشركة، وقد كانت السكة النحاسية حين نشر هذا الكتاب رائجة وكانت تعد نقوداّ حسب عرف ذلك الزمن...".

(كتاب الشركة، الباب السادس، الفصل الثالث، ج:3، ص:353، ط:المكتبةا لطارق)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"(هو بيع بعض الأثمان ببعض) كالذهب والفضة إذا بيع أحدهما بالآخر أي بيع ما من جنس الأثمان بعضها ببعض وإنما فسرناه به ولم نبقه على ظاهره ليدخل فيه بيع المصوغ بالمصوغ أو بالنقد فإن المصوغ بسبب ما اتصل به من الصنعة لم يبق ثمنا صريحا ولهذا يتعين في العقد ومع ذلك بيعه صرف ...شرائطه فأربعة، الأول قبض البدلين قبل الافتراق بالأبدان.

(قوله: فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أي النقدان بأن بيع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزنا ومن قبض البدلين قبل الافتراق".

(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:6، ص:209، ط:دارالكتبة العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403100671

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں