بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض لے کر یونیورسٹی پڑھنا


سوال

میں برطانیہ میں رہتی ہوں اور  مجھے آگے پڑھائی کرنی ہے۔یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے،  یہاں کی گورنمنٹ سودی قرض دیتی ہے،کیا یہ سودی قرض لینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  سودی لین دین حرام ہے اور  اللہ تعالی سے اعلان جنگ ہے؛  لہذا  غیر مسلم ملک  میں (یعنی برطانوی حکومت  سے)  سودی قرض لینے کی  بھی قطعًا اجازت نہیں ہوگی اور قرض لینے کی صورت  میں سائلہ گناہ گار ہوگی۔

نیز  یہ بات بھی واضح رہے کہ شریعت میں عورتوں کو پردہ کا پابند کیا گیا ہے اور شدید مجبوری کے علاوہ نا محرم مردوں کے ساتھ اختلاط کو ممنوع قرار دیا ہے، بلکہ شدید ضرورت کے بغیر عورت کا گھر سے باہر نکلنا بھی پسندیدہ نہیں ہے؛ لہذا اگر سائلہ کے پاس پڑھائی کا کوئی ایسا موقع ہے  جہاں  شرعی حدود میں رہ کر تعلیم حاصل کی جاسکتی ہو، یعنی مخلوط تعلیم نہ ہو   وغیرہ، تب تو  سائلہ اپنی پڑھائی جاری رکھے،  ورنہ  مخلوط نظام تعلیم میں پڑھائی جاری رکھ کر اللہ کی ناراضی مول نہ لے۔ 

الفتاوى الهندية میں ہے:

"(الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه)

وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم في كل مكيل وموزون بيع مع جنسه وعلته القدر والجنس ونعني بالقدر الكيل فيما يكال والوزن فيما يوزن."

(کتاب البیوع باب  تاسع فصل سادس ج نمبر ۳ ص نمبر ۱۱۷،دار الفکر)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم."

(کتاب البیوع باب الربا ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۹۱۵،دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الشرنبلالية معزيًا للجوهرة: و لايكلم الأجنبية إلا عجوزًا عطست أو سلمت فيشمتها لايرد السلام عليها وإلا لا، انتهى، وبه بان أن لفظه لا في نقل القهستاني، ويكلمها بما لا يحتاج إليه زائدة فتنبه

(قوله وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لايشمتها، و لايرد السلام بلسانه قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلم الرجل أولا، وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس اهـ.

وفي الذخيرة: وإذا عطس فشمتته المرأة فإن عجوزًا رد عليها وإلا رد في نفسه اهـ وكذا لو عطست هي كما في الخلاصة (قوله في نقل القهستاني) أي عن بيع المبسوط (قوله زائدة) يبعده قوله في القنية رامزا ويجوز الكلام المباح مع امرأة أجنبية اهـ وفي المجتبى رامزا، وفي الحديث دليل على أنه لا بأس بأن يتكلم مع النساء بما لا يحتاج إليه، وليس هذا من الخوض فيما لا يعنيه إنما ذلك في كلام فيه إثم اهـ فالظاهر أنه قول آخر أو محمول على العجوز تأمل، وتقدم في شروط الصلاة أن صوت المرأة عورة على الراجح ومر الكلام فيه فراجعه."

(کتاب الحظر و الاباحۃ  ج نمبر ۶ ص نمبر ۳۶۹،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں