بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

سودی کمائی والے شخص کے گھر میں کھانا کھانے کا حکم


سوال

سودکھانے والےکےگھرمیں کھاناجائز ہےیاحرام ؟اگرغلطی سے یامجبوری کی صورت میں کھالیں توکفارہ کیاہوگا؟

جواب

صورت ِمسئولہ  میں اگر سائل کو یقین ہوکہ گھروالوں کی تمام  یاغالب آمدن اور کھانے پینے میں سودی رقم شامل  ہےتو ان کے گھر کا  کھانا کھانا  جائز نہیں ہے تاہم  اگریہ  یقین ہوجائے  کہ سائل کے سامنے پیش کیے گئے کھانے میں  سودی رقم شامل نہیں ہے تو اس صورت میں کسی قسم کی کوئی   کراہت نہیں  ہےاور اگرغلطی یاکسی مجبوری کی وجہ سےسودی رقم سے تیار شدہ کھانا کھالیاتوتوبہ واستغفار کرلیناکافی ہوگا،اس کاکوئی کفارہ نہیں ہے،لیکن اگرغالب آمدن حرام نہ ہواورجوپیش کیاجارہاہےوہ حرام آمدن میں سے نہ ہو تو اس چیز کےکھانے میں کوئی حرج نہیں ۔

المحيط البرهاني میں ہے:

"وفي «عيون المسائل» : رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه".

( المحیط البرہانی ،الفصل السابع عشر فی الھدایا والضیافات، ج :5،ص :367،ط: دارالکتب العلمیہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

" أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع".

( الفتاوی الہندیہ ،الباب الثانی  عشر فی الھدایا والضیافات، ج:5 ،ص:342،ط: رشیدیہ)

وفیہ أیضاً:

"آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط".

( الفتاوی الہندیہ ،الباب الثانی  عشر فی الھدایا والضیافات،ج:5،ص:343، ط: رشیدیہ)(مجمع الانھر،  کتاب الکراہیۃ،ج:2،ص:529، ط: دار احیاء التراث العربی)

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101556

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں