بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سودا مکمل ہوجانے کے بعد ایک فریق کا سودے کو ختم کرنا


سوال

میں نے ایک شخص سے دو لاکھ تیس ہزار روپے میں پلاٹ خریدا، معاہدہ یہ طے ہوا کہ پہلے پچاس ہزار روپے دیے جائیں، میں نے تیس ہزار روپے دیے، اور اس نے وصول کرلیے، پھر میں نے ٹرین میں تیس ہزار روپے دیے، اور اس کے بعد ہر مہینے دس، دس ہزار روپے دیے، اسی طرح بینک کے ذریعے دو پے آرڈر بھی دیے، میں ہمیشہ اس شخص کو کہتا رہتا کہ مجھے قبضہ دو، مگر اس نے قبضہ نہیں دیا، میں اب تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے دے چکا ہوں اورابھی مزید ستر ہزار روپے دینے ہیں، مگر وہ بندہ کہتا ہے کہ تم اپنے پیسے واپس لے لو، میں پلاٹ نہیں دوں گا، جب کہ ہم دونوں نے اس معاملے کے متعلق اسٹامپ پیپر پر دستخط بھی کر چکے ہیں، اور اب پلاٹ کی قیمت بڑھ گئی ہے، اس لیے اس کی نیت بدل گئی ہے،  براہِ کرم میری راہ نمائی فرمائیں کہ یہ پلاٹ کس کا ہے؟ اور مجھے ستر ہزار روپے دینے کے بعد وہ پلاٹ مل جائے گا یا نہیں؟

اسٹامپ پیپر کی کاپی سوال کے ساتھ منسلک ہے۔

جواب

واضح رہے کہ سودا مکمل ہونے کے بعد بائع یعنی فروخت کنندہ یا خریدار میں سے کسی ایک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر سودا ختم کردے بلکہ بائع پر لازم ہے کہ وہ فروخت کی ہوئی چیز خریدار کے حوالے کرے اور خریدار پر ضروری ہے کہ وہ قیمت بائع کے حوالے کرے۔

جیسا کہ ’’الہدایہ‘‘ میں ہے:

"وإذا ‌حصل ‌الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية."

(كتاب البيوع، ج: 3، ص: 23، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے فریق کے درمیان پلاٹ کی خرید و فروخت کا معاملہ ہوا، اور سائل نے دو لاکھ تیس ہزار روپے کا پلاٹ خریدا ، اور رقم کی ادائیگی قسط وار طے ہوئی، جس میں سے سائل ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے ادا بھی کرچکا ہے، لیکن اب پلاٹ بیچنے والا سائل کو پلاٹ دینے پر راضی نہیں ہے، بلکہ وہ سائل کی رقم واپس کرکے اس معاملے کو ختم کرنا چاہ رہا ہے، تو سائل کی رضامندی کے بغیر فروخت کنندہ کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ جب دونوں کے درمیان پلاٹ کا سودا ہوگیا تھا تو پلاٹ میں سائل کی ملکیت آگئی تھی، البتہ فروخت کنندہ کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ سائل کو رقم کی ادائیگی مکمل نہ ہونے تک قبضہ نہ دے، اور سائل جب بقیہ ستر ہزار روپے کی رقم ادا کردے گا تو فروخت کنندہ پر لازم ہوگا کہ وہ پلاٹ کا قبضہ سائل کو دے دے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع."

(كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج: 3، ص: 3، ط: دار الفكر بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"للبائع حبس المبيع إلى قبض الثمن، ولو بقي منه درهم ولو المبيع شيئين بصفقة واحدة."

(كتاب البيوع، مطلب في حبس المبيع لقبض الثمن وفي هلاكه وما يكون قبضا، ج: 4، ص: 561، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403100363

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں