بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سوچوں سوچوں میں زبان سے بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر لفط طلاق بولنے کا حکم


سوال

میں نماز کے بعد بیٹھا ہوا  سوچوں میں گم تھا، سوچوں سوچوں میں اچانک میرے منہ سے  نکلا" جاؤ جاؤ"پھر تھوڑی دیر بعد صرف لفظ طلاق نکلا نہ میری طلاق کی نیت  تھی، اور نہ   میں نے بیوی کی طرف نسبت کی تھی،  میں تو اور سوچوں میں گم تھا، کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ  محض طلاق کا خیال آنے سے یا وسوسہ آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، بلکہ طلاق  دینے سے واقع  ہوتی ہے اور  طلاق دینا اس وقت ہوتاہے جب انسان زبان سے   طلاق کا صریح لفظ، یا طلاق کا کنایہ لفظ بیوی کی طرف نسبت کرکے کہتا ہے، اور اگر کنایہ لفظ کہتا ہے ، مثلًا "تم یہاں سے چلی جاؤ "،" نکل جاؤ" وغیرہ تو  اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ بیوی کو  طلاق دینے کی نیت بھی کی ہو، اور نیت کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے  ارادے کا نام ہے،  محض دماغی خیالات نیت کے درجہ میں نہیں ہوتے۔

مذکورہ تفصیل کے بعدصورتِ مسئولہ میں سائل   نے بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر صرف لفظ ِطلاق بولا ہے اور اس جملہ سے بیوی مراد نہ تھی تو سائل کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في قول البحر: إن الصريح يحتاج في وقوعه ديانة إلى النية (قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها۔"

(کتاب الطلاق، ج:3، ص:250، ط:سعید)

وفيه ايضاً:

"«وركنه لفظ مخصوص». 

(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس و الإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، و كذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لايقع به طلاق و إن نواه."

 

(کتاب الطلاق ج:3، ص:230، ط :سعید)

وفيه ايضاً:

"(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) ‌الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب."

(‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب الكنايات، ج:3، ص:296، ط:سعيد)

کفایت المفتی میں ہے :

"بغیر نسبت کے صرف ’’ لفظ طلاق‘‘ کہنے سے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟

(سوال)   زید کی والدہ و ساس کے درمیان ایک عرصے سے خانگی جھگڑے ہورہے تھے زید سخت بیمار ہے ایک روز زید کے برادر خورد نے زید کی والدہ سے کہا کہ اماں یہ جھگڑے ختم نہ ہوں گے ہم اور تم کہیں  چلیں، ان دونوں کو یہاں رہنے دو اور زید کا بھائی اپنی والدہ کو لے جانے لگا، زید نے کہا کہ تم نہ جاؤ میں اس جھگڑے کو ہی ختم کیے دیتا ہوں اور یہ کہہ کر کہا کہ میں نے طلاق دی، یہ الفاظ اپنی والدہ سے مخاطب ہوکر کہے، پھر  اس کے بعد جوش میں آکر صرف طلاق طلاق طلاق پانچ چھ مرتبہ کہا، لیکن اپنی زوجہ کا نام ایک مرتبہ بھی نہیں لیا اور نہ اس سے مخاطب ہوکر کہا اور زید کا خیال بھی یہی تھا کہ صرف لفظ طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی، زوجہ گھر میں موجود تھی، لیکن اس نے الفاظ مذکورہ نہیں سنے۔  

(جواب ۳۵) زید کے  ان الفاظ میں جو سوال میں مذکور ہیں لفظ طلاق تو صریح ہے، لیکن اضافت الی الزوجہ صریح نہیں ہے، اس لیے اگر زید قسم کھاکر  یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ نہیں کہے تھے تو اس کے قول اور قسم کا اعتبار کرلیا جائے گا،  اور طلاق کا حکم نہیں دیا جائے گا-         محمد کفایت  اللہ کان اللہ  لہ"۔

(کتاب الطلاق، باب الطلاق الصریح، الفصل الثانی فیما یتعلق بترک الاضافۃ فی الطلاق،  ج:8 ، ص:72،   ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ اَعلم


فتوی نمبر : 144410101491

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں