بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سِیَر کا معنی کیا ہے؟


سوال

سیر جنگ کیا ہیں؟

جواب

"سِیَر"   سیرۃ کی جمع ہے، اس کا لغوی معنی ہے: "طریقہ" اور شریعت کی اصطلاح میں اس کا معنی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد کا طریقہ، لیکن شرعاً اس کا استعمال امورِ جہاد پر ہی ہوتا ہے۔

العنایۃ شرح الہدایہ میں ہے:

"‌‌(كتاب السير) السير جمع سيرة، وهي الطريقة في الأمور، وفي الشرع تختص بسير النبي - عليه الصلاة والسلام - في مغازيه.

(والسير جمع سيرة) وهي فعلة من السير (وهي الطريقة في الأمور. وفي الشرع تختص بسير النبي - صلى الله عليه وسلم - في مغازيه) قال في المغرب: أصل السيرة حالة السير، إلا أنها غلبت في لسان الشرع على أمور المغازي وما يتعلق بها كالمناسك على أمور الحج، والمغازي جمع المغزاة من غزوت العدو قصدته للقتال، وهي الغزوة والغزاة والمغزاة."

(كتاب  السير، ج:5، ص:434، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144510101410

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں