بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

صرف سونے پر زکوۃ


سوال

 کل ایک مفتی صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ اگر عورت کے پاس 3 تولہ سونا ہو اور تھوڑی بہت وہ رقم ہو جو اس کو اس کا شوہر ہر ماہ خرچہ کے لیے دیتاہے، کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟  جواب میں کہا عام طور پر نقدی اور سونے کو ملاکر چاندی کی نصاب اگر پورا ہوتا ہے تو زکوۃ واجب ہوتا ہے ۔لیکن یہاں چوں کہ عورت خود نہ کماتی ہے اورسونا بھی اتنا مہنگا کہ اگر کسی کے پاس آدھا تولہ سونا ہو تو وہ بھی صاحب نصاب بن جائے گا، اس طرح بہت مشکل ہوگا ، اب ہم اس طرح کریں گے کہ اگر کسی کے پاس 3.5 تولہ سونا ہے اب سونے مقدار چوں کہ 7.5 تولہ ہے تو اس 7.5 سے 3.5 منفی کریں گے تو  باقی جو  3 ہے اس کو 7 ضرب دیں گے تو 21 ہوجائے گا اب 21 تولہ چاندی کے برابر اگر اس کے پاس رقم ہے تو  زکوۃ واجب ہوگا ورنہ نہیں۔

اس بارے میں وضاحت فرمادیجیے!

جواب

اگر کسی کی ملکیت میں صرف سوناہو اس کے علاوہ نقد، چاندی یا مالِ تجارت کچھ بھی نہ ہو تو  زکوۃ لازم ہونے کےلیے ساڑھے سات تولہ سونا ہونا ضروری ہے، لیکن اگر سونے کے ساتھ  ساتھ  بنیادی ضرورت سے زائد نقدی، چاندی یا مالِ تجارت میں سے بھی کچھ ملکیت میں ہو تو ساڑھے سات تولہ کا اعتبار نہیں، بلکہ اگر ان مملوکہ اشیاء کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔ بشرطیکہ اتنا قرض ذمے میں نہ ہو جسے منہا کرنے کے بعد نصاب کے بقدر مالیت باقی نہ رہے۔

شوہر کی دی ہوئی رقم اگر عورت کی ملکیت نہیں بلکہ شوہر نے گھر کے اخراجات اور ادائیگیوں کے لیے دی ہے، تو  یہ رقم عورت کی ملکیت میں شمار نہ ہوگی، اور اگر مالک بناکر دی ہے لیکن وہ رقم ضروری اخراجات میں اسی ماہ صرف ہوجاتی ہے تو یہ رقم بنیادی ضرورت سے زائد نہیں ہے، لہٰذا اسے بھی نصاب میں شامل نہیں کیا جائے گا، ہاں اگر عورت کے پاس کچھ بھی رقم بچت میں آجاتی ہے تو اس دن سے وہ صاحبِ نصاب شمار ہوگی، اور سال پورا ہونے پر بھی اگر وہ صاحبِ نصاب ہو تو زکاۃ کی ادائیگی واجب ہوگی۔

مذکورہ مفتی صاحب کی بتائی صورت  (یعنی دو نصابوں کو اجزاء کی بنیاد پر جمع کرکے نصاب کا اعتبار کرنے) پر فتویٰ نہیں دیا جاتا۔ مفتی بہ قول وہی ہے جو سابقہ سطور میں بیان کیا گیا، یعنی جب دو یا زیادہ مختلف قسم کے اموالِ زکاۃ (مثلاً: نقدی اور سونا) کسی کی ملکیت میں ہوں تو نصاب پورا کرنے کے لیے اس نصاب کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا جس کی مالیت کم ہو، کیوں کہ اس میں فقراء کا نفع ہے، لہٰذا جب چاندی کی قیمت کم ہے تو اسی کا نصاب معتبر ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202491

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں