بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

صرف مکان کی تعمیر بیچنا اور زمین کرایہ پر دینے کا حکم


سوال

ایک شخص نے زمین خریدی اور اس زمین میں چند مکان بنائے، پھر ان مکانوں کو بیچ دیا، اس طور پر بیچا کہ مشتری صرف مکان کا مالک ہوگا، زمین کا مالک بائع ہی رہے گا، زمین پر مشتری بحیثیت کرایہ دار ہوگا، چنانچہ مشتری کو ہر مہینے زمین کا کچھ کرایہ دینا ہوگا ،نیز اگر مشتری اس مکان کو مشتریِ ثانی کو بیچے گا تو ثمن میں سے ٣٣٪ مالکِ زمین (بائعِ اول) کو بھی دینا ہوگا، کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام کہ :

١) کیا بائع کے لیے اس طور پر مکانوں کی بیع کرنا درست ہے؟ نیز مشتری کے مکان کو آگے فروخت کرنے کی صورت میں بائعِ اول (مالکِ زمین) کا ثمن سے ٣٣٪ لینا جائز ہے؟

٢) کیا مشتری کےلیے اس طور پر مکان خریدنا جائز ہے کہ وہ مکان کا مالک ہو اور زمین میں کرایہ دار ہو؟

٣) اگر مشتری نے اس طور پر مکان خرید لیا ہے تو کیا اس کے لیے اس مکان کو آگے کسی دوسرے مشتری کے ہاتھ فروخت کرنا درست ہے؟

٤) اگر مشتری نے اس طور پر مکان خرید لیا ہے تو کیا وہ اس مکان کو کرایہ پر اٹھا سکتا ہے؟ نیز کیا اس مکان کو کرایہ پر لینا درست ہوگا؟

٥) اگر کسی جگہ اس طرح مکانوں اور دکانوں کی بیع و شراء کا عرف بن گیا ہو تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

1)صورتِ مسئولہ میں بائع کا مکان کو ا س طور پر بیچنا کہ  مکان کی زمین کو اپنی ملکیت میں رکھ کر مشتری سے کرایہ وصول کرنا ناجائز ہے۔

2)بائع اول کا مشتری اول پر یہ شرط لگانا کہ آگے مکان بیچنے پر 33فی صد بائع اول کو دینے ہوں گے ٗ شرطِ فاسد ہے اور ناجائز ہے۔

3)جب کہ مذکورہ معاملہ فاسد ہے،تو بائع  اور مشتری پر لازم ہے کہ اس معاملے کو ختم کرے،لہذا  بائع پر لازم ہے کہ مشتری کا ثمن لوٹائے اور  مشتری بھی گھر بائع کے سپرد کردے،چناں چہ مشتری کو آگے مکان بیچنے کا حق نہیں ہے۔

4)جب مشتری کی ملکیت میں ہی فساد ہے اور اس پر بائع کو مکان لوٹانا لازم ہے تو آگے کرایہ پر دینا اور کسی کا کرایہ پر لینا بھی جائز نہیں ہے۔

5)واضح رہے کہ عرف کا اعتبار ان مسائل میں کیا جاتا ہے جن میں نصوص میں کوئی صراحت نہیں ہو، جب کہ مذکورہ بالا معاملہ جس میں ایک ہی عقد میں بیع اور اجارہ کو جمع کیا جا رہا ہے ٗ صریح حدیث کےمخالف ہے،لہذا اگر کسی جگہ ایک ہی سودے میں   تعمیر کی بیع  میں زمین کے اجارہ کا عرف رائج ہو جائے تو بھی یہ عقد ناجائز ہی رہے گا،حدیث میں ہے:

"عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، قال: " ‌نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ‌صفقتين في صفقة واحدة."

ترجمہ:"عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود  اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے دو سودوں کو ایک سودے میں جمع کرنے سے منع فرمایا."

(مسند الإمام أحمد، مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ،ج:6، ص:324، رقم:3783، ط:مؤسسة الرسالة)

رد المحتار میں ہے:

"(قوله: كشرط إجارة في البيع) أي كما لو ‌باع ‌البناء واشترط عليه إجارة الأرض وهو مفسد للعقد؛ لأن فيه منفعة لأحد المتعاقدين."

(کتاب الشركة، ج:4، ص:303، ط:سعید)

النشر العرف فی بناء بعض احکام العرف لابن عابدین میں ہے:

"ولا اعتبار للعرف المخالف للنص؛ لأن العرف قد  يكون على باطل،بخلاف النص،كما قاله ابن الهمام وقد قال في الأشباه :العرف غير معتبر في المنصوص عليه."

(ص:5، ط :دار الفکر)

رد المحتار میں ہے:

"والبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا لو قائما.......(قوله فيجب رد عين الربا الخ)....لأن ‌حكم ‌البيع ‌الفاسد ‌أنه ‌يملك ‌بالقبض ويجب رده لو قائما ورد مثله أو قيمته لو مستهلكا."

(كتاب البيوع،‌‌ باب الربا، ج:5، ص:169، ط:سعید)

وفیہ ایضاً :

(وإذا قبض المشتري المبيع برضا صريحا أو دلالة في البيع الفاسد ولم ينهه ملكه)......(قوله ملكه) أي ملكا خبيثا حراما فلا يحل أكله ولا لبسه إلخ قهستاني."

(کتاب البیوع،‌‌ باب البيع الفاسد، مطلب في البيع بشرط فاسد، ج:5، ص:89، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100440

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں