بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

صرف ’’استغفر اللہ و اتوب الیہ‘‘ کو بطور استغفار پڑھنے کا حکم


سوال

کیا صرف  ’’استغفراللہ واتوب الیہ‘‘  کہہ کر استغفار کی تسبیح کی جاسکتی ہے ؟

جواب

’استغفار‘‘ کے معنی ہیں: اپنے گناہوں اور قصوروں کی معافی مانگنا اور بخشش طلب کرنا۔  اور اس کی حقیقت اور روح یہ ہے کہ آدمی اپنے گناہوں کو سوچے، جنہوں نے اس کے نفس کو گھیر رکھا ہے، یعنی اس کو میلا اور گندا  کررکھا ہے اور پھر اسبابِ مغفرت اختیار کر کے نفس کو ان گناہوں سے پاک کرے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اول باری تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرے، اور اس پر ندامت کا اظہار کرے، اور آئندہ گناہ نہ کرنے پکا عزم کرے اور اس کے بعد صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے، اور اس کے لیے کوئی بھی ایسے الفاظ جن میں اللہ سے معافی مانگنے کا معنی موجود ہو استعمال کیے جاسکتے  ہیں، اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے سچے دل سے ”أَسْتَغْفِرُ الله “بھی کہا جاسکتا ہے، اور اس کے بہتر ین الفاظ  میں سے چند یہ ہیں:

1-"أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰـه اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَیْه".

2- "أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ أَتُوْبُ إِلَیْهِ".

3- "رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّك أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ".

سوال میں مذکور استغفار کے کلمات ’’ استغفراللہ و اتوب الیہ‘‘ بھی استغفار کی تسبیح کے طور پر پڑھے جاسکتے ہیں، بلکہ مسلم شریف کی ایک روایت میں تو رسول اللہ ﷺ سے بعینہ ان الفاظ کے ساتھ استغفار  کرنے کا ذکر ہے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر اوقات یہ کلمات  ’’سبحان الله و بحمده أستغفرالله و أتوب إلیه‘‘ پڑھا کرتے تھے۔

صحيح مسلم (1/ 351):
'' 220 - (484) حدثني محمد بن المثنى، حدثني عبد الأعلى، حدثنا داود، عن عامر، عن مسروق، عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر من قول: «سبحان الله وبحمده أستغفر الله وأتوب إليه» قالت: فقلت يا رسول الله، أراك تكثر من قول: «سبحان الله وبحمده أستغفر الله وأتوب إليه؟» فقال: " خبرني ربي أني سأرى علامة في أمتي، فإذا رأيتها أكثرت من قول: سبحان الله وبحمده أستغفر الله وأتوب إليه، فقد رأيتها ﴿ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ﴾ [النصر: 1] ، فتح مكة، ﴿ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِىْ دِيْنِ اللهِ اَفْوَاجاً فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ اِنَّه كَانَ تَوَّاباً ﴾ [النصر: 3] ".

سنن أبي داود (2/ 85):
" سمعت بلال بن يسار بن زيد، مولى النبي صلى الله عليه وسلم، قال: سمعت أبي، يحدثنيه عن جدي، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من قال: أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم، وأتوب إليه، غفر له، وإن كان قد فر من الزحف. "
تاريخ المدينة لابن شبة (3/ 1136):

" عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَدِمَ الْمِصْرِيُّونَ فَلَقَوْا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: ۔۔۔ وَمَا تَنْقِمَونَ أَيْضًا؟» قَالُوا: تَعْطِيلَ الْحُدُودِ. قَالَ: «وَأَيَّ حَدٍّ عَطَّلْتُ؟ وَمَا وَجَبَ حَدٌّ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا أَقَمْتُهُ عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ أَنْ تَلْقَوْا غَدًا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَسْتُمْ مِنْهُ فِي شَيْءٍ».

الجامع الصحيح للسنن والمسانيد (1/ 135):
" وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (" إن عبداً أذنب ذنباً فقال: رب إني أذنبت ذنباً فاغفره لي)  (فقال الله تبارك وتعالى: أذنب عبدي ذنباً، فعلم أن له رباً يغفر الذنب , ويأخذ بالذنب، (قد غفرت لعبدي ، ثم مكث ما شاء الله  ثم أذنب ذنباً ، فقال: رب أذنبت ذنباً آخر، فاغفره لي) (فقال الله تبارك وتعالى: عبدي أذنب ذنباً، فعلم أن له رباً يغفر الذنب ويأخذ بالذنب)، (قد غفرت لعبدي، ثم مكث ما شاء الله ، ثم أذنب ذنباً ، فقال: رب أذنبت ذنباً آخر ، فاغفره لي)، (فقال الله تبارك وتعالى: أذنب عبدي ذنباً، فعلم أن له رباً يغفر الذنب ، ويأخذ بالذنب، قد غفرت لعبدي، فليعمل ما شاء "). 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں